تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 289
تاریخ احمد بیت - جلد 4 ۱۱- -۱۲ ۲۷۵ سے بھی زیادہ لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں"۔روزنامہ نوائے وقت " لاہور (۱۲ / اپریل ۱۹۶۰ء) کے نمائندہ خصوصی مسٹر حفیظ ملک (مقیم واشنگٹن امریکہ) نے لکھا۔افریقہ میں اگر کوئی پاکستانی مذہبی مشنری کام کر رہی ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہے۔مشرقی افریقہ میں مسلمانوں کی آبادی ۱۵ فیصد ہے جس میں ایسٹ افریقن ٹائمز کے بیان کے مطابق دس ہزار افریقی لوگ احمدی ہیں۔پرتگیزی مشرقی افریقہ میں تقریباً دس لاکھ افریقی مسلمان ہو چکے ہیں جن میں سے غالب اکثریت احمدیوں کی ہے۔کینیا کے سرحدی صوبوں میں اسلام کو فروغ ہو رہا ہے اور یہاں بھی غالب اکثریت احمدیوں کی ہے۔نیروبی میں تو خیر احمدیوں نے ایک بہت بڑا مذہبی تبلیغی مرکز قائم کر رکھا ہے۔جو روزنامہ انگریزی اخبار بھی شائع کرتا ہے اور اس کے علاوہ تعلیم کے لئے اس سینٹر نے کالج وغیرہ بھی قائم کر رکھے ہیں۔ہمیں احمدیت سے شدید اختلافات ہیں اور ہم عقیدہ ختم نبوت کے مسئلہ میں احمدیوں بالخصوص قادیانی فرقہ کے تصورات کو بالکل باطل اور گمراہ سمجھتے ہیں اور سواد اعظم کی طرح ان تصورات سے نفرت و بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔لیکن اس کے باوجود ہمیں ان کی مساعی کی داد دینی پڑتی ہے۔بلی گراہم جب اپنے حالیہ دورہ میں نیروبی گئے تو اسلام کی طرف سے اگر کسی جماعت نے انہیں مباحثہ کی دعوت دی تو وہ جماعت احمدیہ تھی۔کینیا - یوگنڈا اور ٹانگانیکا میں اس وقت ۲۵ لاکھ مسلمان آباد ہیں۔لیکن ان کی تعلیمی حالت بہت ہی کمزور ہے۔عیسائی مشنری سکولوں اور کالجوں کے ذریعہ سے طلباء کو عیسائیت کی طرف راغب کر رہے ہیں اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جماعت احمدیہ کے سوا پاکستان میں اور کوئی مذہبی جماعت موجود نہیں جو افریقہ میں اسلام کی تبلیغ کے کام کو انجام دے سکے "۔جناب حفیظ ملک صاحب کے اس مضمون پر مشہور شیعہ اخبار "رضا کار “ نے ۸ / مئی ۱۹۶۰ء کی اشاعت میں لکھا۔اس وقت افریقہ کے تمام قابل ذکر شہروں میں شیعہ مبلغین موجود ہیں لیکن جب ہم اپنے ان مبلغین کی تبلیغی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جب ہم ان کا مقابلہ احمدی مبلغین سے کرتے ہیں تو ندامت سے ہمارا سر جھک جاتا ہے۔تبلیغی میدان میں عیسائی مبلغین کا مقابلہ کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔۔۔کیونکہ ان مبلغین کی پشت پر حکومتیں ہیں جو لاکھوں اور کروڑوں روپے سے ان کی امداد کر رہی ہیں۔لیکن احمدی مبلغین کی پشت پر نہ