تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 286
تاریخ احمدیت۔جلد ٹیلیویژن انٹرویو کی تفصیل شائع کرتے ہوئے لکھا کہ۔آرچ بشپ آف کنٹر بری ڈاکٹر رامزے نے گزشتہ اتوار کے روز تسلیم کیا کہ افریقہ میں بہت وسیع پیمانے پر اسلام کی پیش قدمی جاری ہے "۔- مسٹر عبد اللہ فونڈی کیر اسابق وزیر انصاف ٹانگانیکا لکھتے ہیں۔" مشرقی افریقہ میں جماعت احمدیہ نے ۲۵ سال میں دو جنگیں لڑیں ہیں۔ایک جنگ عیسائیوں کے ساتھ۔جو تابڑ توڑ حملے اسلام اور حضرت بانی اسلام اللہ پر کر رہے تھے۔ان کے جوابات دے کر عیسائیت کو نا قابل عمل اور ناقابل قبول ثابت کر کے ان کے منہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیئے۔دوسری جنگ میں احمدیوں نے غیر از جماعت لوگوں پر اپنے عمل اور کردار اور تبلیغ اسلام کی مخلصانہ جد وجہد سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اسلام کے بچے اور بہادر سپاہی ہیں"۔KIA چیف ہارون لگوشار تانگانیکا کی لیجسلیٹو کونسل کے سابق سپیکر اور ایسٹ افریقن کو نسل کے سابق ممبر نے کہا۔اگر جماعت احمدیہ نہ ہوتی تو اسلام کا نام افریقہ سے مٹ جاتا "۔ایس کے جمال (جونز برگ جنوبی افریقہ کی علم دوست شخصیت) نے ۲۶/ ستمبر ۱۹۶۳ء کو اپنے ایک خط میں لکھا کہ۔اسلام اور عیسائیت کے سلسلہ میں جو قیمتی اور بلند پایہ مضامین اخبار ایسٹ افریقن ٹائمز " میں شائع کئے جاتے ہیں۔میں قدر دانی کے جذبات کے پیش نظر آپ کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔میں ان مضامین کو پڑھ کر ہمیشہ حظ اٹھاتا ہوں۔بالخصوص وہ اداریے جو عیسائیت کے رو اور اسلام کی حمایت و دفاع میں آپ نے تحریر کئے بے حد قابل قدر ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ کسی کی مجال نہیں کہ احمدی حضرات کا اس میدان میں مقابلہ کر سکے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم سنی جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی سے اختلاف رکھتے ہیں لیکن حقدار کو اس کا حق دیتا بھی ضروری اور لابدی ہے۔میں یہ بات کہنے پر مجبور ہوں کہ ایسے ادارے یا انجمنیں جو تبلیغ اسلام کے فریضہ کو غیر مسلموں میں بجالا رہی ہیں۔احمدی حضرات کے تیارہ کردہ لٹریچر سے خوب فائدہ اٹھاتی ہیں اور اس علم کلام کے زور سے اپنی تبلیغ کو غیر مسلموں میں موثر بناتی ہیں۔احمدی حضرات نے بائیبل کا بہت گہرا مطالعہ کیا ہے اور ہم سنی آپ حضرات کی محنت شاقہ اور جد وجہد کے نتیجہ سے (جو عیسائیت کی علمی تحقیقات کے بارہ میں کی ہے فائدہ اٹھا رہے ہیں ہو سکتا ہے کہ اس قسم کی انجمنوں یا اداروں نے آپ کا شکریہ ادا کرنے اور قدر دانی کے جذبات کے اظہار