تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 278 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 278

تاریخ احمدیت۔جلد ؟ ۲۶۴ معراج الدین صاحب مرحوم) نے ساٹھ ہزار شلنگ کا عطیہ دیا - D مسجد کے ساتھ دار التبلیغ بھی تعمیر ہوا جس کے لئے بابا فقیر محمد صاحب مرحوم کے بچوں نے ہیں ہزار شلنگ چندہ دیا۔تعمیر کا کام محمد افضل خاں صاحب اور نعمت اللہ خان صاحب بلڈنگ کنٹریکٹرز نے اپنی نگرانی میں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔m ڈاکٹر بلی گراہم کو مقابلہ روحانی کا چیلنج امریکہ کے مشہور میمی مناد ڈاکٹر لی گرام ۱۹۱ء کے شروع میں افریقہ کے تبلیغی دورہ پر روانہ ہوئے تو امریکی پریس (خصوصاً اخبار ”ٹائم" اور "نیوز دیک") نے اس دورہ کو بہت اہم قرار دیا اور عیسائیت کی کامیابی کی بڑی امیدیں اس سے وابستہ کیں۔افریقہ کے طول و عرض میں کئی ماہ سے ان کی آمد کا زبردست پرو پیگنڈا جاری تھا کہ ڈاکٹر بلی گراہم فروری کے آخر میں نیرو بی پہنچے اور عظیم الشان جلسے منعقد کئے گئے جن میں انہوں نے لاکھوں نفوس سے خطاب کیا۔شیخ مبارک احمد صاحب نے ۳/ مارچ ۱۹۶۱ء کو ڈاکٹر بلی گراہم کے نام ایک خط لکھا جس میں ان کے سامنے انجیل کے اصولوں کی رو سے بذریعہ دعالا علاج بیماروں کو تندرست کرنے کا طریق رکھا اور اس کے مطابق اسلام اور عیسائیت کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کو للکارا۔ملکی اخبارات میں اس چیلنج کا خوب چرچا ہوا اور پریس نے شیخ صاحب کا فوٹو شائع کر کے اس کو خاص اہمیت دے دی جس سے متاثر ہو کر ڈاکٹر گراہم سے ان کے ایک لیکچر کے بعد سوال کیا گیا کہ کیا آپ چیلنج قبول کریں گے ؟ ڈاکٹر گراہم نے جواب دیا۔”میرا کام محض وعظ کرنا ہے مریضوں کو چنگا کرنا عیسائی حلقوں کی طرف سے ڈاکٹر بلی گراہم کو مجبور کیا جانے لگا کہ وہ یہ چیلنج قبول کر کے عیسائیت کی سچائی کا ثبوت دیں۔ورنہ عیسائیت کو سخت زک پہنچے گی۔مگر وہ آمادہ نہ ہو سکتے تھے اور نہ ہوئے۔افریقہ کے غیر احمدی مسلمانوں نے مکرم شیخ مبارک احمد صاحب کو مبارکباد دی اور اقرار کیا کہ آپ نے عیسائیت کے بالمقابل اسلام کا جھنڈا خوب بلند رکھا ہے۔اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد غزنوی نے پاکستان کے اخبار "مشرق " (لاہور) مورخہ ۱۸ / اکتوبر ۱۹۶۳ء میں کو لکھا۔" ۶۱۵۱ چند سال سے افریقہ میں تبلیغ کے سلسلہ میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان معرکہ جاری ہے عیسائی مشنری اپنے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو کر افریقہ پر ایک مدت سے حملہ آور ہیں اس کے مقابلہ میں مسلمان مشنریوں نے بھی وہی طریقے اختیار کئے فرق صرف اتنا تھا کہ مسلمانوں کی تنظیم اتنی