تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 267
مدریت - جلد ۶ ۳۵۳ تین دن تک مختلف مقامات سے پتھر اٹھا کر لاتے اور مسجد کی زمین پر جمع کرتے رہے۔جب سب تیاری مکمل ہو گئی تو مکرم شیخ مبارک احمد صاحب نے ۷ / فروری ۱۹۴۱ء کو بعد نماز جمعہ مسجد کی بنیاد رکھی یہ تقریب پونے تین بجے بخیرو خوبی ختم ہوئی اور سب اتدی اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔تین بجے کے قریب مکرم شیخ مبارک احمد صاحب بعض اور احمدیوں کے ساتھ ایک احمدی کی دکان پر بیٹھے ہوئے تھے کہ یکا یک مخالفین کا ایک جم غفیر ہاتھوں میں ڈنڈے لئے آپ کی طرف بڑھنے لگا۔در اصل جیسا کہ بعد کو علم ہوا یہ لوگ اپنی مجلس میں فیصلہ کر چکے تھے کہ اگر تعمیر مسجد کی یہ اجازت منسوخ نہ کی گئی تو آپ قتل کر دیے جائیں۔اس سوچی سمجھی تجویز کے مطابق پہلے ایک شخص سائیکل پر آیا اور مکرم شیخ مبارک احمد صاحب کو موجود پاکر سواحیلی زبان میں کہنے لگا شیخ مبارک بیٹھا ہے مار ڈالو اس پر ہجوم نے دکان کا محاصرہ کر لیا احمدیوں نے فور ادروازے بند کر دیئے حملہ آور دروازے توڑتے رہے لیکن اندر داخل نہ ہو سکے اور خیال کیا کہ مبارک احمد کسی اور رستہ سے اپنے گھر چلے گئے ہیں یہ سوچ کر وہ آپ کے مکان کی طرف دوڑے آپ کی المیہ صاحبہ اس وقت مکان میں تھیں۔مگر دروازے بند تھے۔اس لئے یہ لوگ وہاں شور و شر کر کے واپس آگئے پھر ایک احمدی دوست محمد اصغر صاحب لون پر جو اپنے مکان میں داخل ہو رہے تھے ) حملہ کر دیا کچھ چوٹیں بھی ان کو آئیں۔جب وہ گھر میں داخل ہوئے تو ہجوم بھی داخل ہو گیا۔اتنے میں اصغر صاحب بندوق اٹھا لائے۔بندوق دیکھتے ہی فسادی بھاگ کھڑے ہوئے۔جو احمد کی اس وقت شورش پسندوں کے سامنے آیا۔اسے انہوں نے خوب پیا۔یہ لوگ شیخ صالح افریقن مبلغ کے مکان پر بھی گئے وہاں بھی احمدیوں نے دروازہ نہ کھولا۔احمد یہ سکول میں ایک بوڑھے احمدی مزیع عرفہ رہتے تھے۔یہ لوگ ان پر ٹوٹ پڑے۔دوسرے احمدی جو گھروں کو جاچکے تھے۔شیخ مبارک احمد صاحب کی حفاظت کے لئے ان کے مکان پر پہنچے۔شہر میں دکانیں بند ہو گئیں اور دہشت پھیل گئی تھوڑے وقفہ کے بعد (ڈسٹرکٹ کمشنر) مسٹر ویرین (سپر نٹنڈنٹ پولیس) مسٹر نعیم اور سینیٹری انسپکٹر) مسٹر بولٹن سپاہیوں کے دستے کے ساتھ پہنچ گئے اور شام چھ بجے تک پوری توجہ اور فرض شناسی سے کام کرتے رہے۔ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس شام کے وقت مکرم شیخ مبارک احمد صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ اگلی صبح کو پراونشل کمشنر آپ سے اپنے دفتر میں ملنا چاہتے ہیں۔مسجد کے سلسلہ میں ضروری کاغذات لے کر پہنچ جائیں۔چنانچہ اگلے روز ۸/ فروری کو آپ پراونشل کمشنر سے ملے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ احمدی اس جگہ مسجد نہ بنائیں۔سارا معاملہ گورنر صاحب بہادر کے پاس پہنچا اور انہوں نے بھی تیسرے دن یہ احکام صادر کر دیئے کہ حکومت فی الحال موجودہ حالات کے پیش نظر اس مخصوص پلاٹ پر تعمیر