تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 262 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 262

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۲۴۸ تشریف لائے اور ان کے مقابلہ کے لئے مسلمانوں نے مولوی لال حسین صاحب اختر کو افریقہ بلایا۔تو ان دنوں خاکسار اہل سنت و الجماعت کی انجمن کا سیکرٹری تھا۔لال حسین صاحب کی آمد پر بڑا شور و غوغا مچا۔ظاہری نمائش کے مطابق ان کا استقبال کیا گیا اور زمین و آسمان کا درمیانی خلاان کی تعریف سے پر کر دیا گیا۔آخر کار جب لیکچروں کا بندوبست کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اختر صاحب سوائے طوطے کی رٹ کے کچھ نہیں جانتے۔اس وقت تعصب کی پٹی آنکھوں پر بندھی تھی مگر وہ اس طرح سرکنی شروع ہوئی کہ جب اختر صاحب سے کوئی سوال کیا تو فوری جواب ملا کہ کیا احمدیوں سے ملاقات کی ہے ان کی تعلیم کا اثر گفتگو سے مترشح ہوتا ہے۔لوگوں نے منع کیا کہ مولوی صاحب محتاط رہیے۔ایسا نہ ہو کہ یہ شخص آپ کے یہاں ہوتے ہوئے احمدی ہو جائے۔آخر جب احمدیوں کے بائیکاٹ کا فتنہ شروع ہوا تو بندہ نے صدر صاحب سے اجازت حاصل کر کے اپنی یہ رائے ظاہر کی کہ آغا خانی اور شیعہ وہابی وغیرہ وغیرہ کا بائیکاٹ بھی ہونا چاہئے اور اگر آپ بائیکاٹ کا سلسلہ شروع کریں گے تو نصاری یہودی اہل ہنود ، سکھ پارسی سب کا کرنا ہو گا۔پھر اختر صاحب تبلیغ کے کریں گے۔الٹے پاؤں انہیں ہندوستان جانا پڑے گا۔اس پر بعض لوگوں نے جو کہ منیجنگ میٹنگ کے ممبر تھے۔میری حمایت کی اور کہا مولانا فی الحال یہ قدم اٹھانے کے لئے لوگ تیار نہیں اس ناکامی سے جھلا کر مولوی صاحب مجھے نقصان پہنچانے کے درپے ہو گئے۔اس وجہ سے ملازمت چھوڑنی پڑی۔ایک خاندان میں میرا رشتہ قرار پا چکا تھا اس سے دستبردار ہونا انجمن کے سیکرٹری کا احمدی ہو جانا ایک جمالی نشان تھا لیکن ایک جلالی نشان کا ظہور ابھی باقی تھا یعنی اس انجمن کے بانی مبانی اور روح رواں سید احمد الحداد کی عبرتناک ہلاکت - سید احمد الحداد میگاڑی میں کمپنی کے منظور کردہ راشن اور پڑول کی دکان کے مالک تھے۔ساری آبادی کی سپلائی کا یہی ایک سٹور تھا۔اس لئے وہ بہت بڑی تجارت کے مالک تھے۔آخر نیروبی سے میگاڑی کے رستے میں موٹر کے حادثہ میں لقمہ اجل ہوئے۔جس کا اثر انجمن حمایت اسلام کی مساعی پر بھی ہوا اور مخالفت میں نمایاں کمی ہو گئی اور پہلا سا زور نہ رہا۔اور ۱۹۳۶ء میں لال حسین صاحب اختر بھی واپس ہندوستان چلے جانے پر مجبور ہوئے۔رسالہ "ما بینری یا منگو کا اجراء جب حالات کچھ سازگار ہوئے تو شیخ مبارک احمد صاحب نے تبلیغ اسلام کے بنیادی اور اساسی کام کی طرف پوری توجہ شروع کر دی اور جنوری ۱۹۳۶ء میں ممباسہ سے "ما پینزی یا منگو" (MANGU