تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 261 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 261

ت - جلد ۳۴۷ OFF دوں گا۔سائیں صاحب کو آخر وقت تک وہاں مرد میدان بنے کی جرات نہ ہو سکی۔مگر واپسی پر نیری NY ERIE) کے مقام پر احمدیت کے خلاف ایک زہر آلود تقریر کر کے بدلہ لینا چاہا۔دوران تقریر ایک احمدی میاں عبد اللطیف صاحب نے چند سوالات کے لئے وقت مانگا۔انہوں نے جواب دیا تم جاہل ہو اپنے مولوی کو میرے سامنے لاؤ - عبد اللطیف صاحب نے کہا مولوی صاحب آجا ئیں گے مگر پہلے میرے سوالات کا جواب دیں بڑی لے دے کے بعد انہوں نے بعض انتہائی غیر معقول شرائط پیش کیں۔جو عبد اللطیف صاحب نے تسلیم بھی کرلیں مگر انہوں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ میں ٢ / مارچ کو دوبارہ آؤں گا۔تب جواب دوں گا۔چنانچہ ۲/ مارچ کو شیخ مبارک احمد صاحب بعض اور احمدیوں سمیت نیری پہنچ گئے۔سائیں صاحب اس وقت تقریر کر رہے تھے۔عبد اللطیف صاحب نے صدر سے وقت مانگا۔سائیں صاحب نے جھٹ کہہ دیا کہ کیا کوئی تحریری ثبوت میرے وعدے کا پیش کر سکتے ہو ؟ اس پر شیخ مبارک احمد صاحب نے کہا کہ بہت افسوس کی بات ہے کہ علی الاعلان وعدہ کر کے انکار کیا جاتا ہے۔ابھی آپ یہ فقرہ مکمل بھی نہ کر پائے تھے کہ نیری کے ایک مشہور تاجر عثمان علو نے تالی بجائی اور ساتھ ہی بعض افریقنوں نے شیخ مبارک احمد صاحب پر حملہ کر دیا۔مکرم عبد اللطیف صاحب نے بہت وار اپنے بازوں پر لئے اور شیخ صاحب اور دوسرے احمدیوں کو چوٹیں آئیں۔جب تک نادان لوگ خود ہی مارنے کے بعد ادھر ادھر بائیکاٹ کا حربہ - نہ چلے گئے احمد کی وہیں موجود رہے۔HD اس طرح کے اوچھے ہتھیاروں پر اترنے کے بعد لال حسین صاحب نے احمدیوں کے خلاف بائیکاٹ کی مہم شروع کر دی۔اور نیروبی ممباسہ کسومو نکورد وغیرہ شہروں میں بھی احمدیوں کا بائیکاٹ کر دیا گیا۔اس آگ کو مرکزی انجمن حمایت اسلام نے بہت ہوادی۔کچھ دنوں کے بعد سائیں لال حسین صاحب جنجہ (یو گنڈا) پہنچے تو وہاں کی جمالی اور جلالی نشان مقامی انجمن حمایت اسلام کے سیکرٹری عبدالغفور صاحب نے جو سائیں صاحب کو جنجہ بلانے کے محرک تھے احمدیوں کے خلاف بائیکاٹ کی مخالفت کی۔اس پر وہ عبد الغفور صاحب کے در پے آزار ہو گئے اور انہوں نے تحقیق و مطالعہ کے بعد ۱۹۳۶ء میں بیعت کرلی اور عدن سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں یہ عریضہ لکھا۔سید ناو مولانا حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسلمین خلیفہ ثانی حضرت مسیح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزيز السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاته - پس از سلام الاسلام مسنون عارض ہوں کہ خاکسار کا نام محمد عبد الغفور ہے اور گزشتہ سال جب آپ کے نظام تبلیغ کے ماتحت شیخ مبارک احمد صاحب مشرقی افریقہ