تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 9
جلده کا زور نہ لگایا ہو۔ہمارا بھی خدا کے فضل سے فیصلہ یہی ہے کہ اس جماعت کو مٹاکر چھوڑیں گے"۔اسی زمانہ میں سید محمد انور شاہ صاحب شیخ الحدیث دار العلوم دیو بند نے بھی لاہور کے ایک عام جلسہ میں یہ دھمکی دی کہ میں مرزائیوں کو تباہ کر کے دم لوں گا۔روری یہ ہے ۱۹۳۲ء کا گر دو پیش جس میں جماعت احمدیہ کے جری قائد اور مقدس امام حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ایک نئے جوش نئی قوت اور نئے ولولے کے ساتھ کاروان احمدیت کی قیادت و سیادت کا بیڑہ اٹھایا اور پھر خدا کے فضل ، نیم شبی دعاؤں حق و معرفت سے لبریز کلمات و خطبات اور بر وقت اور مناسب تدابیر اور دوسرے روحانی و مادی ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے جماعت کو ایک ایسی مضبوط اور مستحکم چٹان تک پہنچا دیا کہ نہ صرف یہ کہ آئندہ جو طوفان بھی اٹھا اس کے کناروں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گیا۔بلکہ اس کے نتیجہ میں ہر بار جماعت احمدیہ کو پہلے سے زیادہ قوت و شوکت نصیب ہوتی چلی گئی جیسا کہ آئندہ کے صفحات سے معلوم ہو گا۔پیغام احمدیت پہنچانے کی زبر دست خدائی سلسلوں کے زندہ رہنے اور ترقی کرنے کا تحریک اور یوم التبلیغ کا آغاز واحد ذریعہ تبلیغ ہے یعنی نرمی اخلاق اور دعاؤں " پر زور دے کر حق و صداقت کی اشاعت کرنا جیسا کہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے "الوصیتہ " میں تحریر فرمایا ہے کہ۔خداتعالی چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔یہیں خدا تعالی کا مقصد ہے جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔سو تم اس مقصد کی پیروی کرد - مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے "۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی خصوصاً پچھلے کئی سالوں سے جماعت کو اس کی تبلیغی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلا رہے تھے اور گو اس کا نتیجہ بھی نہایت خوش کن نکل رہا تھا۔اور خدا کے فضل سے جماعت سرعت سے ترقی بھی کر رہی تھی مگر چونکہ یہ ترقی نسبتی تھی اور ابھی جماعت کے بہت سے احباب حقیقی طور پر تبلیغ کی طرف متوجہ نہیں ہوئے تھے اس لئے حضور نے ۱۹۳۲ء کے آغاز میں ہی جماعت کو نہایت جوش سے تبلیغ کرنے کی تحریک فرمائی۔چنانچہ ۸/ جنوری ۱۹۳۲ء کو خطبہ جمعہ کے دوران ارشاد فرمایا کہ ضروری ہے کہ ہم پہلے سے بھی زیادہ جوش اور اخلاص کے ساتھ کام کریں۔کیونکہ جب تک ہر سال لاکھوں آدمی ہماری جماعت میں شامل نہ ہوں گے۔اس وقت تک ہم پورے طور پر ترقی نہیں کر