تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 251 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 251

تاریخ احمدیت جلد ۶ ۲۳۷ بھی یوگنڈا ریلوے کے ملازم کی حیثیت سے وارد ممباسہ ہوئے۔اور مشرقی افریقہ میں پہلی احمدید جماعت کی داغ بیل پڑی۔۴۹۲ ۱۸۹۷ء میں تشریف لے جانے والے صحابہ میں سے حضرت حافظ محمد اسحق صاحب اور شیخ حامد علی صاحب کو آب و ہوا کی ناموافقت یا بعض دوسرے ضروری اور نجی امور کی وجہ سے جلد واپس آنا پڑا۔لیکن ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب کو ڈیانوی تین سال تک ملٹری میں رہے اور بڑی متانت اور حکمت کے ساتھ اپنے حلقہ میں اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کرتے رہے۔فوج کے اکثر مسلمانوں نے ڈاکٹر صاحب سے قرآن مجید پڑھا اور اپنا دینی علم بڑھایا ، حضوں کو حضرت مسیح موعود کی صداقت کی خواہیں آئیں اور وہ بیعت سے مشرف ہوئے۔جن میں سے بابو عمر الدین صاحب بھی تھے جنہوں نے ۷ / اکتوبر ۱۹۰۰ء کو کلنڈ ینی میں انتقال کیا۔حضرت ڈاکٹر صاحب کے فیض صحبت سے ان کے ساتھ کام کرنے والے پانچ مسلمان ڈاکٹروں کو بھی شناخت حق کی توفیق ملی۔اس ضمن میں اخبار الحکم ۲۹/ اکتوبر ۱۸۹۸ء میں مندرجہ ذیل خط درج ہے۔یہاں ممباسہ اور مشرقی افریقہ کے گردو نواح میں ایک شخص مبارک نامی بگڑا ہوا باغی سردار تھا یہ شخص سلطان زنجبار کے مشیروں میں سے تھا۔مگر جب سلطان نے سلطنت برطانیہ سے کچھ عہد و پیمان کر کے جزیرہ ملالہ جس میں بیٹھے ہم مضمون لکھ رہے ہیں کچھ عرصہ کے لئے انتظام ملکی وغیرہ کی خاطر صاحبان انگریزی کو دے دیا تو یہ شخص مبارک سلطان کا سخت دشمن ہو گیا اور ہر طرح اور ہر طرف سے سلطان زنجبار کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔۔اس کے ہوتے ہوئے صاحبان انگریز کس طرح چین سے اسی جزیرے میں نڈر بیٹھ سکتے تھے۔اس کی سرکوبی کے لئے ایک فوجی کمپنی) یہاں آئی تھی یہ فوج اس شخص مبارک سے جنگلوں میں لڑی اور آخر کار ایک ایسے جنگل میں جاپڑی جہاں پانی کا نشان نہ ملتا تھا اور پانی کے نہ ملنے کی وجہ سے اس پر سخت مصیبت طاری ہوئی مگر اسی اثناء میں انہیں ایک باغیچہ ناریل کامل گیا۔جس سے انہوں نے اپنی بلب جانوں کو بچالیا۔مبارک ان کے مقابلہ کی تاب نہ لا سکا اور آخر کار جنگلوں میں بھاگ کر اپنے کئے کی پاداش بھوگ رہا ہے۔اس فوج میں علاوہ مسلمان سپاہیوں کے ہاسپٹل اسٹنٹ تھے جس میں سے ایک ہمارے حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ایدہ اللہ بنصرہ کے مخلص مرید ڈاکٹر محمد اسمعیل خان صاحب گوڑیانی تھے اور دوسرے پانچ صاحبان اول اول عدم واقفیت کی وجہ سے ہمارے مشن کی مخالفت کرتے رہے۔مگر آخر کار اللہ تعالٰی نے ان کے سینوں کو حق کی شناخت کے لئے کھولا اور ہر ایک نے نیاز نامہ حضرت اقدس کی خدمت میں مخلصانہ روانہ کیا۔