تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 8
تاریخ احمدیت جلد ۲ A سے آگے بڑھ گئی تو اس کا مٹانا اور اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا اس لئے انہوں نے تنظیم کر کے اور ایسے لوگوں کی مدد لے کر جو بظا ہر ہمارے دوست بنے ہوئے تھے مگر اندرونی طور پر دشمن تھے ہمارے خلاف اڈا قائم کر لیا اور ایسی تنظیم کی جس کی غرض احمدیت کو کچل دیتا ہے۔۱۹۳۲ء میں تحریک کشمیر کے دوران میں ایک دن سر سکندر حیات خان صاحب نے مجھے کہلا بھیجا کہ اگر کشمیر کمیٹی اور احرار میں کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو حکومت کسی نہ کسی رنگ میں فیصلہ کر دے گی اس بارے میں دونوں کا تبادلہ خیال چاہتا ہوں کیا آپ شریک ہو سکتے ہیں میں اس وقت لاہور میں ہی تھا۔میں نے کہا مجھے شریک ہونے میں کوئی عذر نہیں۔میٹنگ سر سکندر حیات خان صاحب کی کوٹھی پر ہوئی اور میں اس میں شریک ہوا۔چودھری افضل حق صاحب بھی وہیں تھے باتوں باتوں میں وہ جوش میں آگئے اور کہنے لگے ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ احمدی جماعت کو کچل کر رکھ دیں میں نے اس پر مسکرا کر کہا۔اگر جماعت احمدیہ کسی انسان کے ہاتھ سے کچلی جا سکتی تو کبھی کی کچلی جا چکی ہوتی اور اب بھی اگر کوئی انسان اسے کچل سکتا ہے تو یقینا وہ رہنے کے قابل نہیں ہے یہ پہلی کوشش تھی۔پھر احرار نے جماعت احمدیہ کو کچلنے کی مزید کوشش شروع کی اور یہ عجیب بات ہے کہ وہی احرار جو اپنی دوسری تحریکات کے لئے جب کوشش کرتے تو انہیں روپیہ نہیں ملتا تھا انہوں نے جب جماعت احمدیہ کے خلاف کوشش شروع کی تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑے خزانہ کا دروازہ کھول دیا گیا ہے"۔اس واقعہ کا ذکر حضور نے سب سے پہلے ۲۹ جولائی ۱۹۳۲ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا تھا۔چنانچہ حضور نے بتایا کہ۔” ابھی تھوڑے دنوں کا واقعہ ہے کہ احرار کے لیڈروں میں سے ایک لیڈر نے جو اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے تھے ایک مجلس میں جو صلح کے لئے منعقد ہوئی تھی کہہ دیا کہ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم احمدیوں کو کچل ڈالیں گے۔اب انسانی لحاظ سے ہم ان سے کہہ سکتے تھے کہ ہم تم کو کچل ڈالیں گے اور اگر زیادہ نرمی اختیار کرتے تو کہہ دیتے کہ کچل کر تو دیکھو۔تیسری حالت ڈر جانا تھی کہ نامعلوم کیا ہو گا خدا جانے وہ کیا کر دیں گے وہ اتنی بڑی تعداد میں ہیں اور ہم قلیل ہیں لیکن صحیح بات وہی ہے جو میں نے کہہ دی۔میں نے ان سے کہا کہ اگر یہ بندوں کی تحریک ہے تو ضرور کچلی جائے گی اور اگر خدا کی تحریک ہے تو ہم کو کیاڈ رہے وہ خود اس کی حفاظت کرے گا "۔خود چوہدری افضل حق صاحب " مفکر احرار " نے " تاریخ احرار " (صفحہ ۷۵ (۷۶) میں یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے صاف لفظوں میں اعتراف کیا۔” میں نے کہا مرزا صاحب ! کوئی الیکشن نہیں گزرا جس میں مرزائیوں نے میرے خلاف ایڑی چوٹی 10-