تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 235
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۳۳۳ AF پولیس والوں کو بلایا۔وہ بھی آپ کو پہچانتے تھے تو یہ موت بھی شہادت کی موت ہے " - 2 ان بزرگ ہستیوں کے علاوہ مندرجہ ذیل صحابہ کی وفات بھی اسی سال ہوئی۔حضرت بابو عزیز الدین صاحب سیالکوئی تاریخ وفات ۱۹ مئی ۱۹۳۴ء۔حضرت حکیم محمد عبد اللہ صاحب ماچھیواڑہ ضلع لدھیانہ (؟) حضرت مستری قطب الدین صاحب بھیروی - حضرت ملک نور الدین صاحب ( تاریخ وفات ۳۱ اکتوبر ۱۹۳۴ء) حضرت حکیم محمد الدین صاحب آن گوجر انواله ( تاریخ وفات ۱۰/ نومبر ۱۹۳۴ء) ( حضرت صوفی کرم الہی صاحب آف لاہور ( تاریخ وفات ۱۶/ دسمبر ۱۹۳۴ء) حضرت صوفی صاحب کا نام ضمیمہ "انجام آتھم " کی فہرست ۳۱۳ اصحاب کبار میں ۲۹۰ نمبر پر درج ہے۔خواتین میں سے حضرت خان بہادر نواب محمد الدین صاحب ( ممبر کو نسل آف ٹیسٹ و ریونیو نمبر ریاست جے پور) کی اہلیہ I حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی المیہ اور سیٹھ محمد سعید صاحب عرب کی المیہ بھی اسی سال وفات پا گئیں۔موخر الذکر حضرت علامہ مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کی بیٹی تھیں۔