تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 231 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 231

تاریخ احمدیت جلد ۶ ۲۲۹ سید عبد الباسط صاحب (ابن سید میر مهدی حسین صاحب) اس تبلیغی سفر کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔" حضرت والد صاحب قبلہ اکتوبر ۱۹۳۴ء میں برائے اعلائے کلمتہ اللہ ایران کے لئے روانہ ہوئے۔پاسپورٹ وغیرہ بنوا چکنے کے بعد خدا تعالٰی نے کرائے وغیرہ کے سامان بھی خودہی پیدا کر دیئے قادیان سے ظہر کی نماز مسجد مبارک میں ادا کرنے کے بعد ساڑھے تین بجے کی گاڑی سے لاہور کے لئے روانہ ہوئے بٹالہ میں گاڑی تبدیل کرنی پڑی اور رات لاہور بڑے بھائی محترم سید عبد الغفور صاحب عطاء کے پاس پہنچ گئے۔دوسرے دن آپ کراچی کے لئے روانہ ہوئے۔کراچی جا کر معلوم ہوا کہ پاسپورٹ میں کچھ نقص رہ گیا ہے۔مزید تصاویر بھیجوانے کے لئے آپ نے مجھے قادیان خط لکھا۔مگر اسی اثناء میں آپ کے ہاتھ پر اگزیما کی قسم کی پھنسیاں نکل آئیں۔جن کے علاج کے لئے آپ کو قریباً ایک ماہ کراچی قیام کرنا پڑا۔کراچی سے آپ ایران کے لئے روانہ ہوئے۔آپ نے بتایا کہ جب آپ ایران کی بندرگاہ آبادان پر اترے تو وہاں احمدی احباب استقبال کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے۔ان سے تحریک جدید کے اعلان کی اطلاع ملی۔یہ پہلا اعلان تھا۔آپ کے پاس اس وقت صرف - ۴۹ روپے باقی تھے۔وہ سب کے سب آپ نے سیکرٹری مال کو دے دیئے کہ آپ کی طرف سے تحریک جدید کے لئے حضور خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں پیش کر دئیے جائیں۔آپ وہاں احمدی احباب کے ساتھ رہے۔مگر آپ کی تبلیغ کو دوسرے لوگ پسند نہ کرتے تھے اور جماعت کے دوستوں پر زور دیتے تھے کہ تبلیغ بند کی جائے۔چنانچہ مقامی احباب نے مرکز میں بھی لکھا اور آپ کی واپسی کے احکامات منگوا لئے۔آپ نے مقامی احباب سے کہہ دیا کہ آپ مجھے یہاں سے واپس بھجوا رہے ہیں میں واپس جاکر دوبارہ آزادانہ طور پر آنے کی کوشش کروں گا۔مگر اس عرصہ میں آپ کی نظر بہت ہی کمزور ہو چکی تھی اور سہارے کے سوا چلنا مشکل ہو گیا تھا۔قادیان واپس آکر جب حضرت امیر المومنین کی خدمت میں اجازت کے لئے حاضر ہوئے تو حضور نے آنکھوں کے علاج کی ہدایت فرمائی چنانچہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب ریٹائر ڈ سول سرجن نے حضرت میر محمد اسحق صاحب ناظر ضیافت اور حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہ جہانپوری کی مدد سے آپ کو نور ہسپتال میں لے جا کر آنکھوں کا کامیاب اپریشن کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے بینائی واپس کر دی تو پھر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ حضور کے ارشاد کی تعمیل ہو چکی ہے۔آنکھوں کا علاج ہو چکا ہے۔اب ایران جانے کی اجازت دیں مگر حضور لن چاہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں قادیان میں موجود رہیں۔چنانچہ حضور نے قادیان میں ہی قیام کرنے کی ہدایت فرمائی۔اس طرح آپ دوبارہ ایران تشریف نہ لے جاسکے۔