تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 201 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 201

تاریخ احمدیت جلد ۷ ۲۰۱ ہے کہ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب بیرسٹرایٹ لاء اس عمدہ پر ممتاز کئے جائیں گے مسلمانوں میں بد نصیبی سے یہ عادت ہو گئی ہے کہ کسی ہو نہار آدمی کو بڑھتا ہوا دیکھ نہیں سکتے اور اپنے ہم قوم کی ترقی کو ہمیشہ روکنا چاہتے ہیں۔چنانچہ یہی قصہ اس وقت بھی در پیش ہے اور چند مسلمانوں نے یہ بانگ ہے" ہنگام اٹھائی ہے کہ ظفر اللہ خاں صاحب احمدی ہیں اس لئے مسلمانوں کے قائم مقام نہیں سمجھے جاسکتے۔اس سے زیادہ لغو اور احمقانہ تحریک آج تک ہم نے نہیں سنی اس عہدے پر شیعہ سنی پابند مذہب اور لانہ ہب سب ہی رہ چکے ہیں اس وقت کسی نے بھی شکایت نہیں کی۔اب چونکہ بعض خود مطلب امیدوار اپنے فائدہ کی غرض سے کوشاں ہیں اور چند بے عقل مسلمانوں کو آمادہ کر کے ظفر اللہ خاں صاحب کے خلاف شور و غل مچانا چاہتے ہیں۔چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کی قابلیت معاملہ ضمی اور اسلامی ہمدردی روز روشن کی طرح مشہور ہے اور یہ امر کہ میاں سر فضل حسین صاحب ان کے حامی ہیں اس بات کی ضمانت ہے کہ ان سے زیادہ کوئی مسلمانوں کا ہمدرد نہیں ہو سکتا انگلستان میں ظفر اللہ خان صاحب نے جو خدمات انجام دی ہیں ان کی تعریف نہیں ہو سکتی۔راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں مسلمانوں کو جو کچھ ملا ہے یہ سب ظفر اللہ خان، ڈاکٹر شفاعت احمد خاں اور حافظ ہدایت حسین کی بدولت ہے۔ایسے شخص کی مخالفت انتہائی احسان فراموشی ہے اور ہر سمجھدار مسلمان جس قدر اس احسان فراموشی کی مخالفت کرے کم ہے۔یہ یاد رہے کہ گو اس بانگ بے ہنگام سے ظفر اللہ خان صاحب کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچ سکتا لیکن غیر قوموں کو مسلمان پر ہنسی کا موقع مل جائے گا اور خود ظفر اللہ خاں کے دل میں اس کا ضرو ر افسوس ہو گا کہ جس قوم کی انہوں نے اس قدر جاں نثاری کے ساتھ خدمت کی اسی کے چند افراد ایسی احسان فراموشی کر رہے ہیں۔ہم بھی نہایت ادب کے ساتھ ہز ایکسی لینسی لارڈ و لنگڈن اور سرسیموئیل ہو ر سے التجا کرتے ہیں کہ وہ ایسی بے اصل مخالفت کی پروانہ کریں اور چودھری ظفر اللہ خان صاحب کے تقرر کا جلد ماعلان فرما دیں ان سے بہتر سر فضل حسین صاحب کا کوئی جانشین نہیں ہو سکتا"۔" خواجہ غلام السبطین صاحب بی۔اے منیجنگ ڈائرکٹر اخبار سیاست کا ایک مضمون میں لکھا۔دواخانہ دہلی نے اخبار "سیاست " ۲/ اکتوبر ۱۹۳۴ء چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی سیاسی زندگی پر نظر ڈالی جاتی ہے تو کوئی بات ایسی نظر نہیں آتی کہ انہوں نے جمہور مسلمانان ہندوستان کی مسلمہ پالیسی کے خلاف کوئی بات کی ہو یا انہوں نے مسلمانوں