تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 197
194 ذاتی کاوشوں کی وجہ سے سخت طوفان بے تمیزی شروع کر رکھا ہے اور بعض خانہ ساز انجمنوں کی طرف سے ریزولیوشن پاس کرا کے وائسرائے ہند کی طرف بھیجے جاتے ہیں۔جن کے ذریعہ وائسرائے ہند سے درخواست کی جاتی ہے کہ چودھری صاحب کو ایگزیکٹو کونسل کی ممبری پر مقرر نہ کیا جائے۔بد تمیزی اور معاملہ ناضمی کی اس لہر کو "زمیندار" پارٹی نے سندھ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔جیسا کہ ایک تازہ اشاعت میں "زمیندار" نے لکھا ہے کہ میر پور خاص سندھ میں ایک جلسہ چودھری صاحب کے بر خلاف ہوا ہے لیکن جہاں تک ہم کو معلوم ہے ایسی کوئی بھی میٹنگن میر پور خاص بلکہ سندھ کے کسی بھی حصہ میں نہیں ہوئی اور جو رپورٹ اخبار میں شائع ہوئی ہے۔اس میں میٹنگ کے متعلق کوئی بھی تفصیل نہیں دی گئی کہ وہ کسی جگہ اور کس کی صدارت میں منعقد ہوئی۔کتنے اشخاص اس میں شامل ہوئے اور اس تجویز کی تحریک اور تائید کن اصحاب نے کی۔اس کے علاوہ اگر یہ میٹنگ سندھ میں منعقد ہوتی تو لازمی طور پر پہلے اس کی کارروائی سندھ کے کسی اخبار میں چھپتی۔بہر حال خدا کے فضل سے سندھ کے مسلمان ابھی تک اس تد ر نا عاقبت اندیش نہیں ہوئے کہ وہ پنجابی بھائیوں کی ایک خاص پارٹی کی ایسی حالت میں تائید کریں۔خصوصاً جبکہ وہ لوگ محض پارٹی بازی اور ذاتی کاوشوں کی بناء پر ایک مقتدر اور نہایت کار آمد لیڈر کی مخالفت کر رہی ہے۔چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کے خلاف صرف ایک بات پیش کی جاتی ہے اور وہ یہ کہ وہ قادیانی جماعت کے ایک فرد ہیں لیکن مسلمانوں کی کسی خاص جماعت سے کسی شخص کا تعلق رکھنا اس کو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر بننے سے روک نہیں سکتا۔بشرطیکہ اس میں دوسری قابلیتیں اور مسلمان قوم کے لئے ہمدردی موجود ہو اگر مذہبی اعتقادات اور فرقہ بندی کی رو سے ایسی ذمہ داری کے منصب تقسیم کئے جانے لگے تو یہ مسلمانوں کی انتہائی بد قسمتی ہوگی کیونکہ مسلمان قوم کے ۷۲ فرقے ہی اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایک فرقہ تمام دوسرے فرقوں کی مخالفت کرے گا اور نتیجہ سوائے اس کے کچھ نہیں نکلے گا کہ مسلمان آپس میں لڑتے رہیں گے اور فائدہ دوسری قومیں اٹھا ئیں گی۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی مذہبیت کا توازن دوسرے لیڈروں کی مذہبیت سے کرنا نا مناسب ہو گا کیونکہ ایسا کرنے سے کئی ایک مقتدر مسلمان لیڈروں کے متعلق بھی بعض ناگوار باتیں کرنی پڑیں گی۔پس اس بحث کو یہاں ہی ختم کرتے ہوئے ہم سندھ کے مسلمانوں کی طرف سے ہندوستان کے وائسرائے کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ سر فضل حسین کی جگہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کا تقرر ہندوستان کے عام مسلمانوں کے لئے پسندیدگی کا باعث ہو گا۔