تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 196
تاریخ احمدیت جلد ۱ 194 رکھتی۔لیکن مسلمانان ہند نے انہیں اپنی نمائندگی کا پورا پورا اہل سمجھا اور وہ اسی حیثیت سے مجلس وزراء کی رکنیت پر فائز ہوئے۔ہز ہائیں آغا خاں کے عقائد مسلمانان ہند کے سواد اعظم کے معتقدات سے مختلف ہیں۔باایں ہمہ وہ سیاسیات میں اپنی سمجھ کے مطابق ان کی نمائندگی کرتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں اور مسلمانوں نے کبھی ان کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں قرار دیا۔چوہدری ظفر اللہ خاں کی نمائندگی کے خلاف اگر مسلمان ہمہ گیر صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ قادیانی ہیں اور قادیا نیت ہرگز اسلام کا کوئی فرقہ نہیں بلکہ بالکل علیحدہ مذہب ہے جس سے سارے مسلمان بے زار ہیں اخبار "زمیندار" کی روش کے خلاف اخبار ”زمیندار“ کی اس افسوسناک روش پر بعض مسلم اخبارات نے زبردست احتجاج کیا اور بعض مسلم اخبارات کا زبردست احتجاج اس پالیسی کو مفاد اسلامی کے لئے ضرر رساں اور نقصان دہ قرار دیا۔چنانچہ سندھ کے روزنامہ ”ستارہ سندھ " نے اپنے اخبار "ستارہ سندھ کا اداریہ ۳۱ اگست ۱۹۳۴ء کے پرچہ میں ایک ادارتی نوٹ لکھا ۳۱/ جس کا اردو ترجمہ یہ ہے۔ستارہ سندھ نے لکھا۔اس وقت مسلمانان ہند کے لیڈروں میں چودھری ظفر اللہ خاں صاحب ایک بڑے پایہ کے لیڈر ہیں۔گزشتہ چند سالوں میں انہوں نے مسلمان قوم کی اتنی بڑی خدمات کی ہیں کہ وہ جناب سر آغا خاں کے دوش بدوش کھڑے ہو سکتے ہیں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس اور جائنٹ کمیٹی کے موقعوں پر انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کا کیس ایسی قابلیت کے ساتھ پیش کیا کہ اس پر سارے انگلستان کے مدبر انگشت بدنداں رہ گئے۔سیکرٹری آف سٹیٹ ہند نے چودھری صاحب ممدوح کی قابلیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کو مبارکباد دی اور کہا کہ " آپ کا مستقبل نہایت درخشندہ " نظر آتا ہے"۔راؤنڈ ٹیبل کے مختلف اجلاسوں میں ہندوستان کی سب قوموں کے بہترین دماغ رکھنے والے لیڈر موجود تھے اور جو کچھ انہوں نے وہاں کام کیا۔وہ آج بھی کارروائی کی کتابوں میں موجود ہے اگر کوئی صاحب بنظر غائران کتب کا ملاحظہ فرمائیں تو ان کو چودھری صاحب کا پلہ بھاری نظر آئے گا۔اب عنقریب سر فضل حسین صاحب کی جگہ وائسرائے ہند کی مجلس منتظمہ کی ممبری کی ایک جگہ مسلمانوں کے لئے خالی ہو گی۔پنجاب کے اخبار "زمیندار" کی پارٹی نے چودھری صاحب کے بر خلاف