تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 195
ریت - جلد ۶ ۱۹۵ ہونا لازمی ہے یہ مسلمان وزیر اس وقت سر فضل حسین ہیں جن کے عہدہ کی معیاد عنقریب منقضی ہونے والی ہے۔خیال ہو سکتا تھا کہ جناب والا سر فضل حسین کی جانشینی کے لئے آزمودہ کار اور سر بر آوردہ مسلمانوں میں سے جن کی ہندوستان میں کمی نہیں کسی معتمد علیہ شخص کو نامزد فرمائیں گے۔لیکن یہ گرم افواہ سن کر مسلمانوں کی حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہی کہ سر فضل حسین کے خدمت سے سبکدوش ہونے پر ان کا قلمدان وزارت چودھری ظفر اللہ خاں قادیانی کے سپرد کیا جائے گا جو تمام مسلمانوں کو اپنے پختہ عقیدہ کی بناء پر دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں اور اس لئے ہندوستان کے مسلمان ان کو ابدا اپنا نمائندہ تسلیم نہیں کر سکتے۔چوہدری ظفر اللہ خاں کا نام بے شک مسلمانوں کا سا ہے اور شاید اس کی آڑ لے کر جناب والا کو اور سرسیموئیل ہو روزیر ہند کو بعض اشخاص نے اپنی ذاتی اغراض کی خاطر یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ چودھری ظفر اللہ خاں اسلامیان ہند کے ایک بہت بڑے لیڈر ہیں جن کی ذات پر ہر چھوٹے بڑے کو پورا پورا اعتماد ہے لیکن اگر جناب اپنی امپریل مصروفیتوں سے کچھ وقت نکال کر ہندو تانی مسلمانوں کے اساسی معتقدات اور ان کے عمیق حسیات کے مطالعہ کی زحمت گوار افرما سکیں تو جناب پر یہ حقیقت آفتاب عالمتاب کی طرح روشن ہو جائے گی کہ جو کچھ جناب کو یا وزیر ہند کو بتایا گیا ہے اس کی قطعا کوئی اصلیت نہیں"۔طول و عرض ہند میں جو بے شمار احتجاجی جلسے سر فضل حسین کی جانشینی کے سلسلہ میں ہو رہے ہیں ان کا علم جناب والا کو ہر روز ہو رہا ہو گا۔امید ہے کہ جناب والا مسلمانان ہند کی رائے عامہ سے بے نیازی نہ برتیں گے اور اگر حقیقت میں یہ تجویز جناب کے زیر غور ہے کہ سر فضل حسین کی جگہ چودھری ظفر اللہ خاں قادیانی کو مقرر کیا جائے تو اس پر نظر ثانی فرمائی جائے گی اور کسی ایسے جلیل القدر مسلمان کو یہ منصب رفیع سپرد کیا جائے گا جو مسلمانان ہند کے اعتماد کا اہل ہو"۔آخر میں صرف یہ نکتہ جناب کے گوش گزار کرنا اور باقی رہ گیا ہے کہ یہ مکتوب کسی فرقہ مندانہ نیت سے سپرد قلم نہیں کیا گیا۔شاید جناب والا کو یہ سمجھانے کی کوشش کی جائے کہ قادیا نیت بھی اسلام ہی کا ایک فرقہ ہے اور دوسرے فرقوں کے مسلمان محض تعصب اور ہٹ دھرمی سے اس کی مخالفت پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں جس کا حکومت پر کوئی اثر نہ ہونا چاہئے۔یہ دعویٰ قطعا غلط ہے مسلمانوں میں کئی ایسی جماعتیں موجود ہیں جو بعض مسائل میں ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتی ہیں لیکن ان اختلافات کے باوجود دنیائے اسلام نے ان کو تمام وہ حقوق بخش رکھتے ہیں جو ایک مسلمان کو حاصل ہونے چاہئیں۔سر علی امام مرحوم شیعہ تھے اور ظاہر ہے کہ مسلمانان ہند کی اکثریت شیعی مسلک نہیں