تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 186
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ IAM انجمن احمد یہ مختلف محلوں کے احباب ، مضافات کے احمدی دوست اور قادیان کے غیر احمدی اصحاب شامل ہوئے۔بیواؤں اور قیموں کو گھروں میں کھانا پہنچایا گیا۔الفضل کی رپورٹ کے مطابق اند از ادو ہزار افراد نے کھانا کھایا۔قادیان کے ہندوؤں میں اس خوشی کی تقریب میں شیرینی تقسیم کی گئی۔جو اصحاب اس دن شامل دعوت نہ ہو سکے وہ ۹/ اگست کو دوپہر کے وقت مسجد اقصیٰ میں بلائے گئے مستورات کی ضیافت کا انتظام ۱۰/ اگست کو کیا گیا۔اس بابرکت تقریب پر مقامی سکولوں اور صدرانجمن کے دفتروں میں تعطیل عام رہی اور احمدی شعراء میں سے حضرت مولوی عبید اللہ صاحب بل۔حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل۔حضرت ابو عبید اللہ حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی - حضرت مولانا صوفی غلام رسول صاحب را جیکی و نیز رحمت اللہ صاحب شاکر نے فارسی، اردو اور پنجابی زبان میں دعائیہ نظمیں کہیں اور سہرے لکھے جو الفضل میں شائع ہوئے۔صاحب نے حضرت خلیفہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا اپنے عقائد پر حلفیہ بیان المسیح الثانی سے مطالبہ کیا کہ اپنے عقائد پر حلفیہ بیان دیں جس پر حضور نے حلفیہ اور موکد بعذ اب بیان لکھا۔جو الفضل ۱۴ ستمبر ۱۹۳۴ء کے صفحہ ۵ پر شائع ہوا۔یہ بیان مندرجہ ذیل الفاظ سے شروع ہو تا ہے۔میں مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمد یہ ساکن قادیان ولد مرزا غلام احمد صاحب مدعی ماموریت اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جس کی جھوٹی قسم کھانا انسان کو روحانی اور جسمانی ہلاکت میں ڈال دیتا ہے اور نا قابل برداشت عذابوں میں مبتلا کرتا ہے کہتا ہوں کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب میرے یقین اور ایمان کے مطابق بلا شک و شبہ مسیح موعود اور مہدی مسعود تھے اور آنحضرت ا سے مستفیض ہو کر مقام نبوت پر فائز ہوئے تھے اگر میں اس دعوئی میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ کا وہ وعید جو جھوٹوں کے لئے مقرر ہے مجھ پر نازل ہو"۔