تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 182
Ar داخل کیا گیا۔اس طرح دوسرے احباب کو اچھی طرح جگہ مل گئی۔استقبال ، پانی ، روشنی اور ہوا کا کافی انتظام تھا اور کسی کو کسی قسم کی شکایت کا موقعہ نہیں ملا۔ہر ایک شخص کو اس کے حسب دل خواہ جگہ دی گئی۔حضور کا لیکچر قریباً دو گھنٹہ تک جاری رہا۔لیکچر " کیا انسان مذہب کا محتاج نہیں " کے موضوع پر تھا۔سامعین میں معزز طبقہ کے لوگ خصوصاً کالجوں کے پروفیسر وکلاء لاہور کے پرانے خاندانوں کے افراد اور طلباء شامل تھے۔اور ہر مذہب کے آدمی پائے جاتے تھے۔ہندو مسلمان عیسائی اور سکھ مسلمانوں میں بھی قریباً ہر قسم کے خیالات کے اصحاب شامل تھے۔اور آخر وقت تک نہایت اطمینان اور سکون سے سنتے رہے۔لیگ کی طرف سے پھولوں کا ہار حضور کو پہنایا گیا۔صدر جلسہ ڈاکٹر ایس کے د تا پرنسپل فورمین کرسچن کالج نے افتتاحی تقریر میں سامعین کو متوجہ کیا کہ وہ ایسی بڑی شخصیت کے لیکچر کو توجہ سے سنیں اور آخر میں لیکچر کی بہت تعریف کی اور خواہش ظاہر کی کہ پھر بھی لاہور کی پبلک کو آپ کے قیمتی خیالات کے سننے کا موقعہ میسر آئے۔جناب شیخ عبدالکریم صاحب ایڈووکیٹ لاہور نے حضور کا نہایت پر تعریف الفاظ میں شکریہ ادا کیا۔خاندان حضرت مسیح موعود کو اشاعت اسلام کی زبردست تحریک حضرت خلیفته المسیح الثانی نے ۱۲ جولائی ۱۹۳۳ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کے نکاح کا اعلان فرمایا۔اس پر مسرت تقریب پر حضور نے ایک نہایت ایمان افروز خطبہ ارشاد فرمایا جس میں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے افراد خاندان کو خصوصاً اور جماعت احمدیہ کو عموماً ان کی حفاظت اسلام سے متعلق اہم ذمہ داریوں کی نسبت پر زور طریق پر توجہ دلائی۔چنانچہ حضور نے فرمایا۔رسول کریم ﷺ نے امت محمدیہ کی تباہی کے وقت امید ظاہر کی ہے کہ لنا له رجال من فارس اور یقین ظاہر کیا کہ اس فارسی النسل موعود کی اولاد دنیا کے لالچوں، حرصوں اور ترقیات کو چھوڑ کر صرف ایک کام کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دے گی اور وہ کام یہ ہے کہ دنیا میں اسلام کا جھنڈا بلند کیا جائے۔ایمان کو ثریا سے واپس لایا جائے اور مخلوق کو آستانہ خدا پر گرایا جائے۔یہ امید ہے کہ جو خدا کے رسول نے کی اب میں ان پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔خواہ میری اولاد ہویا میرے بھائیوں کی۔وہ اپنے دلوں میں غور کر کے اپنی فطرتوں سے دریافت کریں کہ اس آواز کے بعد ان پر کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ۔۔۔۔آج دین کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام