تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 170 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 170

تاریخ احمدیت جلد ۷ 16+ جلسہ کے بعض ضروری کوائف جلسہ سے چند روز قبل پیر جماعت علی شاہ صاحب تین دن وہاں رہے کہتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں سے حلف لئے کہ احمدیوں کے جلسہ میں شامل نہ ہوں گے۔احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز فتووں کی اشاعت کی گئی۔جلسہ گاہ کے حصول میں مشکلات پیدا کی گئیں۔خیموں کے تاجروں کو دھمکیاں دی گئیں کہ اگر تم نے شامیانے وغیرہ دیئے تو وہ جلا دیے جائیں گے۔جلسہ سے ایک رات پہلے نہر کے نالے کو کاٹ کر اس قطعہ کو جہاں جلسہ گاہ تیار کی گئی تھی دلدل کر دینے کی کوشش کی گئی۔مولوی ظفر علی خان صاحب اور بعض دوسرے مخالفین بذریعہ تار بلائے گئے جنہوں نے جماعت احمدیہ کے خلاف سخت زہر اگلا اور غیر مبائع اصحاب نے مولوی محمد علی صاحب امیر احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے لکھے ہوئے ٹریکٹ بھی تقسیم کئے۔لیکن ان تمام معاندانہ کوششوں اور اشتعال انگیزیوں کے باوجود جلسہ ہر لحاظ سے کامیاب رہا۔حاضرین کی تعداد کا اندازہ چھ ہزار سے کسی طرح کم نہیں تھا اور حضور کی تقریروں کے وقت تو اس میں اور بھی اضافہ ہو جاتا تھا۔احمدی احباب بھی تمام نواحی دیہات اور ارد گرد کے اضلاع سے بکثرت شامل ہوئے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس موقعہ پر ڈیڑھ سو کے قریب افراد بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔جماعت لائل پور تبلیغ کے نئے دور میں اس جلسہ سے لائل پور میں تبلیغ کا ایک نیا دروازہ کھل گیا تھا جس سے فائدہ اٹھانے کے لئے مرکز کی طرف سے حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کو کچھ عرصہ لائل پور ٹھرنے کا حکم دیا گیا۔چنانچہ آپ نے اپنے قیام کے دوران احمدیت کی خوب تبلیغ کی اور غیر احمدی علماء پر احمدیت کی ذھاک بٹھادی۔یہاں ایک دیوبندی فاضل مولوی محمد مسلم صاحب نے سورہ فاتحہ کی ایک مختصری تفسیر لکھی تھی جس کا متن اردو میں تھا اور حاشیہ عربی میں۔انہوں نے حضرت مولانا راجیکی کو تفسیر نویسی کا چیلنج دیا۔دوپہر کا وقت تھا جونہی یہ چیلنج آپ کی خدمت میں پہنچا آپ اسی وقت قلم دوات لے کر بیٹھ گئے اور دوسرے دن بارہ بجے تک فلسکیپ سائز کے ساتھ صفحات پر فصیح و بلیغ عربی میں صرف بسم اللہ کی تغییر لکھی اور مولوی محمد مسلم صاحب کو پیغام بھیجا کہ اب آپ تین علماء مقرر کریں جو ہم دونوں کی تفسیر پڑھ کر حلفیہ بیان دیں کہ کس کی تغیر زبان دانی اور حقائق و معارف کے لحاظ سے اعلیٰ پایہ کی ہے اس پر مولوی محمد مسلم بالکل مبہوت رہ گئے۔اس زمانہ میں شیخ مبارک احمد صاحب فاضل اور شیخ مولانا عبد القادر صاحب فاضل بھی لائل پور