تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 169 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 169

تاریخ احمدیت جلد ۶ 199 حضرت خلیفتہ المسیح الثانی جڑانوالہ میں حضور انور ۹/ اپریل کی صبح کو آٹھ بجے کے قریب لائل پور سے روانہ ہوئے۔جڑانوالہ میں ان دنوں جماعت کے ایک پر جوش اور مخلص دوست ڈاکٹر محمد شفیع صاحب بطور ویٹرنری اسسٹنٹ متعین تھے جنہوں نے ایک روز قبل حضور سے چند منٹ ٹھرنے کی درخواست کی تھی جسے حضور نے شرف قبولیت بخشا چنانچہ حضور 9 بجے کے قریب جڑانوالہ میں ان کے ہاں رونق افروز ہوئے اس وقت تمیں کے قریب خدام حضور کے ساتھ تھے باوجود یکہ ان کو وقت بہت کم ملا تھا انہوں نے پر تکلف ناشتہ پیش کیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی احمد پور میں جڑانوالہ سے روانہ ہو کر حضور ملک غلام محمد صاحب آف لاہور کی درخواست پر ان کے گاؤں احمد پور تشریف لے گئے اور ملک صاحب کے مکان میں وہاں کے احمدیوں کو شرف زیارت بخشا اور بعض مستورات نے بیعت کی۔یہاں حضور نے جماعت کی مسجد میں دو رکعت نماز بھی پڑھائی۔اور پھر پنجابی زبان میں چند نصائح بھی فرما ئیں۔جن کا لب لباب یہ تھا کہ اپنی زندگی کی حقیقی غرض وغایت کو مد نظر رکھتے ہوئے دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔احمد پور کی ایک غریب اور عمر رسیدہ خاتون نے حضور کی لائل پور میں تشریف آوری کی خبر سن کر اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ قادیان جلسہ سالانہ پر تو میں نہیں جاسکتی مجھے لائل پورہی لے چلو تا میں حضرت صاحب کی زیارت کر سکوں۔بیٹے نے قریب کے ایک گاؤں ڈبرکی والا کے احمدیوں سے جا کر دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ لائل پور میں مستورات کے لئے کوئی انتظام نہیں ہوگا۔بیٹا اپنی والدہ کو یہ بتا کر خود لائل پور روانہ ہو گیا۔ابھی وہ گھر سے باہر نکلا ہی تھا کہ وہ بوڑھی خاتون سجدہ میں گر پڑیں اور یہ دعا کرنے لگیں کہ اللہ تعالٰی حضور کی زیارت کا کوئی سامان پیدا کر دے۔چنانچہ جب حضور اس گاؤں میں تشریف لائے تو اس مخلص خاتون نے بھی زیارت کی اور بہت خوش ہوئی۔۴۱۳ یہاں سے فراغت کے بعد حضور لاہور کی طرف روانہ ہوئے اور قادیان میں ورود مسعود اسی روز (۹/ اپریل کو) شام کے قریب واپس قادیان پہنچ گئے۔اس طرح حضور کا یہ سفر جو افتتاح مسجد کے لحاظ سے سفر انگلستان کے بعد اپنی نوعیت کا دوسرا سفر تھا نہایت کامیابی سے ختم ہوا۔