تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 167
تاریخ احمدیت۔جلد ؟ 144 خدا کا گھر ہے تو آج سے آپ لوگوں میں سے کوئی شخص ایک ساعت کے لئے بھی یہ خیال نہ کرے کہ یہ ان کی ہے جس وقت میں نے دو رکھتیں پڑھ کر اس کا افتتاح کیا اس کے بعد کسی کو اب یہ حق نہیں کہ اسے اپنی قرار دے اور کسی کو اس میں عبادت کرنے سے رو کے حتی کہ اگر کوئی شخص ایک ہندو یا عیسائی کو بھی روکے گا تو وہ خدا کا فوجداری مجرم ہو گا"۔اس ایمان افروز خطاب کے بعد حضور شیخ حضرت امیر المومنین قیام گاہ میں عبدالرزاق صاحب بیرسٹر کی کوٹھی (واقع سرکلر روڈ متصل کچھری) میں تشریف لے آئے۔جہاں حضور کے قیام کا انتظام کیا گیا تھا۔شیخ صاحب موصوف اپنی اس خوش نصیسی پر اس روز بہت شادماں و نازاں تھے کہ خدا تعالیٰ کے عالی مقام خلیفہ موعود کی میزبانی کا شرف انہیں حاصل ہو رہا ہے۔آپ نے ایسے اخلاص و محبت سے اپنے فرائض ادا کئے کہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے الحکم میں لکھا۔" شیخ صاحب نے اس موقعہ پر مہمان نوازی کا جو نمونہ دکھایا ہے وہ صد ہزار تحسین کے قابل اور واجب التقلید ہے۔آپ بہ نفس نفیس اور آپ کے گھر والے اور ملازم سب کے سب ہر وقت مہمانوں کی خدمت میں کمر بستہ تھے شیخ صاحب کی اس مہمان نوازی کا اثر ہر شخص کے دل پر ہے وہ خود آرام کے خوگر اور ناز و نعمت میں پہلے ہوئے ہیں مگر اس موقعہ پر معمولی سے معمولی خدمت کو بھی انشراح صدر سے بجالاتے تھے یہ ان کے اخلاص اور ایمان کا تمرہ تھا"۔جماعت احمد یہ لائل پور کا جلسہ حضور کی تقریر کے بعد تمام لوگ جلسہ گاہ کی طرف چلے گئے جو مولانا قاضی محمد نذیر صاحب فاضل کے زیر انتظام میونسپل باغات میں نہایت شاندار خوبصورت شامیانوں اور قناتوں سے بنائی گئی تھی۔اور ایک باقاعدہ سیج سالانہ جلسہ کے نمونہ پر تعمیر کیا گیا تھا۔جلسہ میں سلسلہ کے مبلغین میں سے مہاشہ محمد عمر صاحب فاضل ، گیانی واحد حسین صاحب (سابق شیر سنگھ ) اور حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی نے مختلف موضوعات پر تقریریں کیں اور جلسہ نماز مغرب کے لئے برخاست ہوا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے جلسہ گاہ میں نماز مغرب و عشاء حضرت اقدس جلسہ گاہ میں جمع کر کے پڑھائیں پھر سٹیج پر رونق افروز ہوئے اور تمام احباب کو مصافحہ کا موقعہ بخشا۔مصافحہ کرنے والے با قاعدہ ایک انتظام کے ماتحت ایک راستہ سے آتے اور دو سرے سے جاتے تھے اس حسن انتظام پر حضور نے خوشنودی کا اظہار فرمایا اور یہاں سے فارغ ہو کر شیخ عبد الرزاق صاحب بیرسٹر کی کوٹھی میں واپس تشریف لے گئے حضور کی واپسی کے بعد علامہ