تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 166 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 166

144 حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف سے جواب ایڈریس کے جواب میں حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانی نے پر معارف خطاب فرمایا۔ایڈریس میں مسجد کی تعمیر کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا زندہ نشان قرار دیتے ہوئے چونکہ مخالفین سلسلہ کی مخالفانہ روش کا بھی تذکرہ کیا گیا تھا اس لئے حضور نے اپنی تقریر کے ابتدا ہی میں ارشاد فرمایا۔جہاں میں ایڈریس دینے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں وہاں ایک امر کے متعلق اظہار افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ایشیائی لوگوں میں عام رواج ہے کہ وہ اپنے کاموں کی بنیاد کچھ نہ کچھ جذبات پر رکھتے ہیں یورپین لوگوں میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔ان کے تمام کاموں میں تجارتی رنگ ہوتا ہے۔ایشیائی ممالک کا اگر کوئی بادشاہ تخت پر بیٹھے تو وہ قیدیوں کو آزاد کرے گا۔قاتلوں کو معاف کرے گا۔ملازموں کو چھٹیاں دے گا۔اور انعام و اکرام تقسیم کرے گا لیکن یورپ میں اگر کوئی بادشاہ تخت پر بیٹھے تو کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔غرض ہماری دنیا جذباتی دنیا ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے کہ بعض حالات میں مفید ہوتی ہے اور میں سمجھتا ہوں اس موقعہ پر جبکہ خدا تعالٰی نے آپ کو توفیق دی کہ آپ لوگ اس کے نام پر ایک گھر بنا ئیں۔بعض لوگوں کا جو شکوہ کیا گیا ہے وہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ انہوں نے مخالفت کی ہوگی مگر یہ سمجھ کر کہ اس طرح وہ دین کی کوئی خدمت کر رہے ہیں انہوں نے مخالفت کی لیکن اب جب خدا تعالٰی نے آپ کو کامیابی عطا کی۔تو چاہئے تھا کہ خدمت کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے مگر مخالفت کرنے والوں کا ذکر چھوڑ دیتے اور دلوں میں ان کے لئے دعا کرتے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت نصیب کرے۔ایڈریس کے اس حصہ نے مجھے تکلیف دی ہے۔خوشی کے موقعہ پر ایشیائی بادشاہ قیدیوں کو چھوڑ دیتے ہیں اور مخالفت کرنے والے لوگ تو آپ کے قیدی نہ تھے ان کا ذکر چھوڑ دینے میں آپ کا کوئی حرج نہیں ہو تا تھا"۔اس ارشاد کے بعد حضور نے اختصار کے ساتھ دوستوں کو مسجد بنانے کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا۔" مساجد اپنے ساتھ بعض ذمہ داریاں رکھتی ہیں۔مسجد خدا کا گھر ہے اور جو شخص مسجد بنانے کے بعد یہ کہتا ہے کہ اسے ہم نے بنایا۔اور یہ ہماری ہے وہ گویا خدا کے گھر کو اپنا گھر قرار دیتا ہے دنیا میں اگر کوئی شخص کسی معمولی آدمی کے گھر کو بھی کہے کہ یہ میرا ہے تو وہ مجرم سمجھا جاتا ہے اس سے اندازہ کر لو کہ جو شخص خدا کے نام پر ایک گھر بنائے اور پھر اسے اپنا قرار دے وہ کتنی بڑی سزا کا مستحق ہو گا پس لائل پور کا ہر احمدی فردیہ سمجھے کہ یہ خدا کا گھر ہے اگر یہ خدا کا گھر نہیں ہے تو مسجد نہیں ہو سکتی۔اور اگر