تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 165
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۱۶۵ راستہ میں بھی بعض اسٹیشنوں پر احمد کی دوست شامل ہوتے رہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی لائل پور میں تشریف آوری گاڑی سوا بجے لائل پور پہنچی۔پلیٹ فارم پر اور اسٹیشن سے باہر حضور کا استقبال کرنے کے لئے ایک بڑا ہجوم امڈ آیا تھا۔احمدیوں کا ایسا شاندار اجتماع قادیان کے سالانہ جلسہ کے سوا کسی اور احمدیہ جماعت کے جلسہ پر دیکھنے میں نہیں آیا تھا استقبال کرنے والوں میں احمدی، غیر احمدی، ہندو اور سکھ وغیرہ سب اقوام کے لوگ موجود تھے جن میں سرکاری عہدیدار، وکلا، بیرسٹر مقامی شرفاء و معززین میونسپل کمشنر وغیرہ شریک تھے گاڑی سے اترنے کے بعد حضور کے گلے میں پھولوں کے بکثرت ہار ڈالے گئے اور جب ان کا بوجھ بہت ہو گیا۔تو لوگوں نے فرط عقیدت سے پھول برسانے شروع کر دیئے لوگ اسٹیشن سے باہر دو رویہ کھڑے تھے اور احمدی والٹیر انتظام قائم کئے ہوئے تھے۔پولیس کا قابل تعریف انتظام تھا اور خود سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس بھی موجود تھے۔حضور نعرہ ہائے تکبیر کے درمیان پلیٹ فارم سے باہر تشریف لائے اور موٹر میں سوار ہ سر شہر کی طرف روانہ ہوئے۔موٹر کے آگے احمدیہ والٹیر زکو ر کے نوجوان جھنڈے اٹھائے جارہے تھے۔حضور سیدھے مسجد احمدیہ میں تشریف لے گئے اور بطور افتتاح دو نوافل جهری افتتاح مسجد قرأت سے پڑھائے۔پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کی ہر آیت کا تین مرتبہ تکرار کیا اور ہر بار حضور کی آواز میں ایک خاص قسم کا جوش اور جذب تھا۔نمازیوں کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ ایک دوسرے کی پیٹھ پر سجدے کئے گئے۔اور نمازیوں پر اس قدر رقت طاری تھی کہ بے اختیار چینیں نکل رہی تھیں نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ دعائیں کی گئیں۔جماعت ہائے احمد یہ ضلع لائل پور کا ایڈریس نماز سے فارغ ہو کر حضور کری پر رونق افروز ہوئے اور مولانا قاضی محمد نذیر صاحب فاضل نے ضلع لائل پور کی احمدی جماعتوں کی طرف سے حضور کی خدمت میں ایڈریس پڑھ پڑھا۔جس کی سنہری حروف میں طبع شدہ ایک کاپی محمل کے نہایت خوبصورت کیس میں رکھ کر حضور کی خدمت میں پیش کی گئی۔یہ ایڈریس چھاپ کر تقسیم کر دیا گیا تھا۔قاضی صاحب پر بھی اس وقت ایک خاص کیفیت طاری تھی اور وہ ایڈیٹر صاحب الحکم " حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے الفاظ میں پیکر محویت بنے ہوئے تھے۔اور حضور کی تشریف آوری نے ان میں اور باقی تمام افراد جماعت میں ایک نیا رنگ پیدا کر دیا تھا۔۴۰۴