تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 164 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 164

تاریخ احمدیت۔جلد ۷ ۱۶۴ ان دنوں مسلم ہائی سکول لائلپور میں عربی ٹیچر اور مقامی جماعت کے نائب مہتم تبلیغ اور خطیب و امام الصلوۃ تھے) اپنے وعظ و تلقین سے جماعت لائلپور میں ایک زبر دست روح پھونک دی اور احباب تعمیر مسجد کے لئے ایثار و اخلاص کے جذبات سے لبریز اور ہر قربانی پر آمادہ ہو گئے۔افتتاح کے لئے سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح مسجد کی شاندار عمارت پایہ تکمیل کو پہنچی تو جماعت لائلپور نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی الثانی کی منظوری اور اس کا پس منظر خدمت میں اس کے افتتاح کرنے کی درخواست پیش کی۔جو حضور نے قبول فرمالی اور ۷ / اپریل ۱۹۳۴ء مطابق ۲۲/ ذو الحجہ ۱۳۵۲ھ کا مبارک دن اس کے لئے مقرر فرمایا۔حضور کی طبیعت ان دنوں علیل تھی اور ڈاکٹری مشورہ یہ تھا کہ یہ سفر ملتوی کر دیا جائے مگر حضور نے یہ التوا منظور نہ فرمایا جس کی اصلی وجہ حضور کے مقدس الفاظ ہی میں بیان کرنا موجب برکت ہے۔حضور نے فرمایا۔میں سمجھا کہ یہ خاص طور پر دینی کام ہے لائل پور نو آبادی کا مرکز ہے اور اس لحاظ سے گویانتی دنیا ہے چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک کشف بھی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایک نئی دنیا بنانے آئے تھے۔اس لئے میں نے خیال کیا کہ جو نئی دنیا بسی ہے وہاں جاؤں۔تاوہ کشف ایک رنگ میں پورا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رویا میں دیکھا تھا کہ آپ نے نیا آسمان اور نئی زمین بنائی ہے اس کے حقیقی معنے تو یہی ہیں کہ ساری دنیا میں آپ کے ذریعہ ایک نئی روح پھونکی جائے گی۔مگر جزوی معنی یہ بھی ہیں کہ جو نئی دنیا بسی ہے وہاں کے لوگوں میں سچا ایمان پیدا کر دیا جائے۔پس اس قسم کی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالٰی اس علاقہ میں بھی احمدیت کو مضبوط کر دے تا ظاہری آبادی کی طرح یہاں باطنی آبادی بھی ہو جائے۔میں یہاں آنے پر آمادہ ہو گیا"۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی قادیان سے روانگی حضور پروگرام کے مطابق 2 اپریل کی صبح قادیان سے موٹر میں روانہ ہوئے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب ، حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ، حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب اور مولوی قمرالدین صاحب اسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری بھی حضور کے ہمراہ تھے۔حضور 9 بجے لاہور سے لائل پور کی گاڑی میں سوار ہوئے جہاں لائلپور جانے کے لئے قادیان کے متعدد احباب پہلے ہی لاہور پہنچ چکے تھے اور لاہور کے بھی کئی دوست شریک قافلہ ہو گئے