تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 156
۱۵۶ جماعت آل انڈیا شیعہ کانفرنس کے پاس دفاتر کے لئے بھی کوئی اس کا ذاتی مکان نہیں ہے اور اس پر کرایہ میں اسے گزشتہ چھ سات سال کے اند ر پانچ چھ ہزار روپیہ دینے پڑے۔اتنی رقم میں دفتر کا نفرنس اور ادارت متعلقہ کے لئے ایک خاص عمارت بن سکتی یا خریدی جاسکتی تھی لیکن سرمایہ کے سوال نے اب تک اس تحریک کو بار آور نہ ہونے دیا۔کہا شیعہ جماعت میں ایسے سرمایہ دار موجود نہیں کہ وہ پانچ سات ہزار چندہ نہیں تو قرض حسنہ ہی دے کر دفتر آل انڈیا شیعہ کانفرنس کو کرایہ مکان کے مستقل بارسے محفوظ کر دیں ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں اپنے قومی ادارات کی حالت زار پر ایک آہ سرد بھر کر خاموش ہو جانا چاہئے۔اور یہ طے کر لینا چاہئے کہ ہمارے دست شل میں یہ صلاحیت نہیں کہ ہم کسی بار کو اٹھا سکیں۔کاش کہ قادیانی جماعت کا جذبہ عمل ہماری سوئی ہوئی قوم کے لئے سبق آموز اور ہمت آفرین ہو اور ہم بھی وقت کی اہم ضروریات کی طرف متوجہ ہو سکیں"۔پنجاب ہائی کورٹ کا چیف جسٹس اور جماعت احمدیہ حکومت ہند نے سرشادی " لال کی جگہ ان کے ریٹائر ہونے پر الہ آباد ہائی کورٹ کے جج مسٹر جان ڈگلس ینگ بیر سٹرایٹ لاء کو پنجاب ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا۔اس فیصلہ پر اخبار الفضل" نے ایک زور دار شد رہ لکھا۔جس میں مسلمانوں کی حق تلفی اور حکومت کے دل شکن رویہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے حکومت کو توجہ دلائی کہ ” پنجاب میں ایسے قابل مسلمان قانون دان موجود ہیں جن کی قانونی قابلیت حکومت سے پوشیدہ نہیں اور وہ ان کی قابلیت کا کئی بار تجربہ بھی کر چکی ہے لیکن چیف جی کے متعلق اس نے یہی مناسب سمجھا کہ مسلمان قانون دانوں کو نظر انداز کر کے یہ منصب ایک انگریز کے سپرد کیا جائے۔کہا گیا ہے کہ حکومت کے لئے اس بارے میں یہ مشکل در پیش تھی کہ پنجاب ہائی کورٹ میں کوئی مسلمان سینئر حج نہیں تھا اور یہ اس کے لئے ناممکن تھا کہ وہ کسی مسلمان بیرسٹر کو خواہ وہ خاص قابلیت کا ہی مالک کیوں نہ ہو چیف جج مقرر کر دیتی اس کے متعلق اول تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح پنجاب ہائی کورٹ کے جوں کو چھوڑ کر باہر سے ایک انگریز چیف جسٹس لایا گیا۔اسی طرح کسی مسلمان کو بھی یہ منصب دیا جا سکتا تھا علاوہ ازیں اس سے یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ اگر آج پنجاب ہائیکورٹ کے جوں میں کوئی مسلمان سینئر جج موجود نہیں تو اس کی ذمہ داری انہی ارباب اقتدار پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے پندرہ برس کے طویل عرصہ میں پنجاب کے کسی ایک قابل مسلمان کو بھی مستقل حج نہ بننے دیا۔حالانکہ پنجاب میں نہایت اعلیٰ قابلیت کے مسلمان قانون دان موجود تھے۔جب مسلمان قانون دان کے متعلق یہ صریح بے انصافی ردار کبھی