تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 155
تاریخ احمدیت جلد ۶ " ۱۵۵ یہ واقعہ ہے کہ اس وقت ہندوستان کی تمام اسلامی جماعتوں میں سب سے زیادہ منظم اور سرگرم عمل احمدی جماعت ہے جس نے دنیا کے گوشہ گوشہ میں اپنے تبلیغی مشن قائم کر دیئے ہیں حالانکہ اس جماعت کی تعداد چند لاکھ سے زیادہ نہیں ہے اور اس میں غرباء و متوسط الحال لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے باوجود اس کے حال میں اس کے دفتر قادیان سے سلسلہ کی ضروریات کے لئے ساٹھ ہزار روپیہ قرضہ جمع کرنے کی اپیل کی گئی چنانچہ دوماہ کے اندرہی یہ رقم فراہم ہو گئی۔لیکن اگر کسی غیر احمدی جماعت کی طرف سے اتنی ہی رقم کے لئے اپیل کی جاتی تو وہ چھ ماہ میں کیا سال بھر میں جمع نہ ہو سکتی تھی۔خواہ وہ ضرورت کتنی ہی شدید ہوتی۔چنانچہ مثلاً امارت شرعیہ بہار کے زلزلہ فنڈ ہی کو دیکھ لیجئے۔کہ چار ماہ میں صدہا اپیلوں اور التجاؤں کے باوجود اب تک چالیس ہزار بھی فراہم نہیں ہو سکا کاش احمدی جماعت کے اس ایثار سے عام مسلمان سبق لیں۔اور قومی ضروریات کے لئے ایک بیت المال قائم کر کے اپنی بیداری اور زندگی کا ثبوت دیں"۔اسی طرح لکھنو کے مشہور شیعہ ترجمان " سر فراز "(یکم جون ۱۹۳۴ء) نے لکھا۔مذہبی حیثیت سے ہمیں قادیانیوں سے کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو۔لیکن ہم ان کے اس جوش قومی دندہی کی قدر کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔جو ان کی طرف سے اپنے جماعتی مفاد کو تقویت دینے کے لئے آئے دن ظہور پذیر ہوتا رہتا ہے۔ابھی حال ہی میں سلسلہ احمدیہ کی ضروریات کے لئے ساٹھ ہزار روپیہ قرض کی تحریک کی گئی تھی۔ناظر امور عامہ قادیان کا بیان جو الفضل قادیان مورخہ ۲۹/ مئی ۱۹۳۴ء میں شائع کیا گیا ہے بتایا ہے کہ اگر اس فنڈ کے بند کر دینے کا اعلان نہ کر دیا جا تا تو اس سلسلہ میں ایک لاکھ روپیہ جمع ہو جانا کوئی بڑی بات نہ تھی۔اب بھی اس تحریک کے ان وعدوں کو ملا کر جن کی چند روز میں وصولی یقینی ہے یہ رقم پچھتر ہزار تک پہنچ چکی ہے"۔یہ واضح رہے کہ چندے یا قرض کی یہ تحریک ایسی تحریک نہیں ہے جو کئی برس کے بعد اٹھائی گئی ہو۔اور اس کے لئے کوئی خاص جد وجہد عمل میں آئی ہو بلکہ اس جماعت کی طرف سے آئے دن اپنے جماعتی مفاد کے لئے چندے ہوتے رہتے ہیں۔اور اس وقت تک چار ہزار کے قریب ایسی وصیتیں ہو چکی ہیں جن میں وصیت کنندگان نے اپنی جائداد کا بڑا حصہ اپنے جماعتی ، قومی اور مذ ہبی کاموں کے لئے وقف کیا ہے۔ظاہر ہے کہ قادیانیوں کی مجموعی تعداد ہندوستان کے شیعوں سے بہت کم ہے لیکن جذ بہ عمل میں مٹھی بھر قادیانی دو کروڑ شیعوں سے کہیں زیادہ نظر آتے ہیں سینکٹروں مکانات پچاسوں ارانیات جماعت قادیانی کے پاس موجود ہیں۔برخلاف اس کے ہم شیعوں کی یہ حالت ہے کہ ہماری واحد نمائندہ