تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 154
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۳۸۱ ۱۵۴ جمع و تدوین کے لئے ایک سب کمیٹی تجویز فرمائی جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور بعض دوسرے جلیل القدر بزرگ شامل تھے اس کمیٹی نے باہمی مشورہ کے بعد ضروری اصول طے کئے اور فروری ۱۹۳۴ء سے جمع و ترتیب کا عملی کام شروع ہوا۔جس میں حضرت مولانا محمد اسمعیل صاحب فاضل پروفیسر جامعہ احمدیہ اور مولانا شیخ عبد القادر صاحب فاضل مبلغ سلسلہ احمدیہ اور مولوی عبدالرشید صاحب فاضل زیروی نے نمایاں کام کیا۔حضرت مولانا محمد اسمعیل صاحب اس کام کے اصل انچارج اور ذمہ دار تھے اور مولانا شیخ عبد القادر صاحب فاضل ان کے دست راست اور مولوی عبدالرشید صاحب نے بعد کو تالیف کے بقیہ مراحل سرانجام دینے اور کاپیوں اور پرونوں کے دیکھنے میں نہایت محنت اور دیدہ ریزی کی۔اس مقدس مجموعہ کا نام حضرت خلیفتہ المسیح نے "تذکرہ " تجویز فرمایا۔جو دسمبر ۱۹۳۵ء میں عمدہ کتابت و طباعت کے ساتھ شائع ہو گیا۔عبدا اس کے بعد اکتوبر ۱۹۵۶ء میں اس کا دوسرا ایڈیشن چھپا۔جس کی تیاری کا سارا کام مولوی اللطیف صاحب فاضل دیو بند بہاولپوری کی مساعی کا رہین منت تھا جو صیغہ تالیف و تصنیف اور الشركة الاسلامیہ لینڈ " کے زیر انتظام عرصہ دو سال میں پایہ تکمیل تک پہنچا۔اس غرض کے لئے آپ کو سلسلہ کے لٹریچر کا از سرنو وسیع اور گہرا مطالعہ کرنا پڑا۔بعد ازاں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ہدایت پر علامہ جلال الدین صاحب شمس نے پورے مسودہ پر نظر ثانی فرمائی۔تذکرہ کے دو سرے ایڈیشن کی اشاعت کے بعد مولوی عبد اللطیف صاحب بہاولپوری نے کمال محنت سے اس کی کلید بھی مرتب کر دی جو دسمبر۱۹۵۷ء میں ” مفتاح التذکرہ" کے نام سے شائع کر دی گئی۔سلسلہ کی ضروریات کے پیش نظر فروری ۱۹۳۴ء میں مرکزی تحریک قرضہ اور مسلم پریس اداره نظارت امور عامہ کی طرف سے ساٹھ ہزار روپیہ قرض تحریک کی ایک تحریک کی گئی کہ مخلصین جماعت کم از کم ایک ایک سو روپیہ اس کار خیر میں دیں۔یہ غیر معمولی طور پر کامیاب ہوئی۔اور ساٹھ ہزار کی بجائے پچھتر ہزار روپیہ اس میں جمع ہو گیا۔جو معیاد کے اندر واپس بھی کر دیا گیا اس تحریک کی کامیابی کا سہرا ناظر امور عامه خان صاحب فرزند علی صاحب کے سر تھا۔جس پر نہ صرف حضرت امیر المومنین نے بہت خوشنودی کا اظہار فرمایا۔بلکہ ایثار پیشہ احمدیوں کے اس جذبہ اخلاص کو مسلم پریس نے بھی بہت سراہا۔چنانچہ لکھنو کے روزنامہ حقیقت (۲۵/ مئی ۱۹۳۴ء) نے لکھا۔