تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 153 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 153

تاریخ احمدیت جلد ۶ ہدایت کرے گا۔۱۵۳ چنانچہ اس ہدایت کے ساتھ کہ اس معاملہ کا فوری تصفیہ کیا جائے۔کلکٹر نے میونسپلٹی کو حکم دیا۔حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب نیر اور سیٹھ محمد اعظم صاحب نے میونسپلٹی کے با اثر ممبران سے ملاقاتیں کیں۔اور سارے معاملے کو سمجھایا اور ان کی اخلاقی ذمہ داری سے ان کو آگاہ کیا۔بالآخر جب معاملہ میونسپلٹی کے اجلاس میں آخری فیصلے کے لئے پیش ہوا تو مسلمان ممبروں کی شدید مخالفت کے باوجود غالب اکثریت کے ساتھ یہ فیصلہ ہوا کہ قبرستان کی زمین میونسپلٹی کی ملکیت ہے جو مسلمانوں کو ان کے مردوں کی تدفین وغیرہ کے لئے دی گئی ہے اور اس میں مردہ شخص جو خود کو مسلمان کہتا رہا ہو وہ اس میں بعد وفات دفن ہو سکتا ہے۔میونسپلٹی کے اس فیصلہ کے خلاف غیر احمدی مسلمانوں کا ایک وفد کلکٹر سے ملا لیکن کلکٹر اس فیصلہ کو بدلنے کے لئے راضی نہ ہوا۔غیر احمدیوں کا ادعا یہ تھا کہ مسلمانوں کے قبرستان میں احمدیوں کی تدفین سے ان کے اپنے مردے نجس ہو جائیں گے اس پر کلکٹر نے ارکان وفد سے پوچھا کہ کیا قبرستان کی زمین تقسیم کر کے اس کا ایک حصہ احمدیوں کے لئے مختص کر دیا جائے ؟ لیکن وہ اس پر راضی نہ ہوئے۔اور بالآخر یہ تصفیہ ہوا کہ کسی دوسری جگہ احمدیوں کے قبرستان کے لئے حکومت زمین مہیا کرے اور اس کی قیمت غیر احمدی مسلمان ادا کریں۔چنانچہ احمدیوں کو قبرستان کے لئے جگہ مل گئی۔متنازعہ قبرستان پرانی آبادی کے متصلہ علاقہ میں واقع ہے جہاں پہنچنے کے لئے گنجان آبادی اور تنگ و تاریک گلی کوچوں سے گزرنا پڑتا ہے لیکن اب جو جگہ احمدیوں کو قبرستان کے لئے دی گئی ہے وہ نئی آبادی سے متصل زمین ہے اور اس نئی آبادی میں پڑھے لکھے اور خوشحال لوگ رہتے ہیں اور سڑکیں بھی کشادہ ہیں۔اور جنازے کے وہاں تدفین کے لئے لے جانے میں راستہ میں فتنہ و فساد کا بہت کم اندیشہ رہتا ہے۔تدفین کے سلسلہ میں جو دشواریاں تھیں ان کے پیش نظر بعض لوگ قبول احمدیت میں متذبذب تھے اور بعض کمزور احمدی بھی پریشان تھے لیکن احمدیوں کے لئے قبرستان کا انتظام ہو جانے کے بعد تذبذب اور پریشانی کی کوئی بات باقی نہیں رہی اس سے احمدیوں کے حوصلے بلند ہو گئے اور غیر احمدیوں میں باوجود اپنی بے پناہ اکثریت اور اثر و رسوخ کے اس ناکامی پر بڑی مایوسی ہوئی۔حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب نیر اور سیٹھ صاحب موصوف ۱۹ / مارچ ۱۹۳۴ء کو واپس تشریف لے آئے۔سیدنا حضرت مسیح موعود کے الہامات و ۱۹۳۳ء میں سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے حضرت اقدس مسیح موعود مهدی مسعود علیه کشوف کی جمع و تدوین کا مرکزی انتظام الصلوة والسلام کے الہامات اور کشوف و رویا کی