تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 150 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 150

اجلائی میں بھی شرکت فرمائی۔اور ۷ / جون ۱۹۳۴ء کو واپس قادیان تشریف لے آئے۔(۵) حضور ۱۶ / اکتوبر ۱۹۳۴ء کو قادیان سے فیروز پور تشریف لے گئے اور مختصر سے قیام کے بعد دو سرے روز ہی واپس قادیان پہنچ گئے۔کالی کٹ (مالا بار) کے احمدیوں پر دردناک مظالم یوں تو کالی کٹ کے احمدی عرصہ سے مظالم کا تختہ مشق بنائے جا رہے تھے۔مگر ۲۹/ جنوری ۱۹۳۴ ء کی شام کو جبکہ ایک احمدی بھائی کی تجہیز و تکفین کا مرحلہ پیش آیا مخالفین کی شرارتیں انتہا تک پہنچ گئیں اور وہ ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو گئے اور فوت شدہ احمدی کے مکان پر گالیوں دھمکیوں اور شور و شر سے ایسا طوفان مچا دیا کہ گنتی کے چند احمدیوں کے لئے مکان سے باہر نکلنا یا اندر جانا مشکل ہو گیا۔رات کے آٹھ بجے کے قریب ایک شخص کو بڑی مشکل سے قبرستان میں بھیجا گیا۔مگر وہاں بھی ہزاروں لوگ لاٹھیاں لے کر جمع تھے اور انہوں نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ اس احمدی کو کسی صورت میں بھی قبرستان میں دفن نہ ہونے دیں گے حالانکہ وہ قبرستان تمام مسلمانوں کے لئے میونسپلٹی کی طرف سے وقف تھا۔اور اس میں دفن کرنے سے روکنے کا کسی کو قطعا حق نہیں تھا۔بے کس احمدیوں نے مخالفین کو اس طرح فساد پر آمادہ دیکھ کر ذمہ دار حکام کی طرف رجوع کرنے کا فیصلہ کیا لیکن انہیں معلوم ہوا کہ کلکٹر صاحب دورہ پر ہیں آخر ان سے تار کے ذریعہ سے مداخلت کرنے کی درخواست کی مگر کوئی جواب نہ ملا۔احمدی رات بھر اسی مکان میں بند رہے۔دوسرے دن صبح کو احمدیوں نے ڈویژنل افسر کو درخواست دی۔اور صورت حال سے آگاہ کیا اس پر انہوں نے پولیس کو ہدایت کی کہ تمام رکاوٹیں دور کر کے نعش کے دفن کرانے کا انتظام کریں۔لیکن بعد میں انہوں نے مخالف سرغنوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے میت کو اس قبرستان میں دفن کرنے سے روک دیا اور بالآخر شام کے قریب ایک ایسی جگہ پر جو شہر سے بہت دور تھی اور جہاں دو تین فٹ کھودنے سے پانی نکل آتا تھا احمدیوں کو اپنے بھائی کے دفن کرنے پر مجبور کیا گیا۔احمدیوں نے جگہ کی غیر موزونیت کے متعلق بار بار کہا مگر سرکاری افسروں نے یہی کہا کہ اس وقت لاش کو دفن کرد اور بعد میں کچھ کہنا ہو تو رپورٹ کرو۔چونکہ میت پر ۲۴ گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا تھا۔اس لئے احمد کی رات کو ساڑھے دس بجے میت اٹھانے پر مجبور ہو گئے اس وقت احمدیوں کی تعداد صرف اٹھارہ اور شرارت پسندوں کا مجمع کم از کم دس ہزار کا تھا۔اگر چہ بعض پولیس والے بھی موجود تھے۔مگر مخالف گالیاں دیتے آوازیں کستے اور شور