تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 146 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 146

تاریخ احمدیت جلد 4 ۱۴۶ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ مومن کے دل میں خشیت اللہ پیدا ہو ؟ اس وقت وہ شخص ناچ اور رنگ رلیوں میں مصروف تھا یہ آیت سنتے ہی چیخیں مار کر رونے لگ گیا۔سارا قرآن سن کر اس پر اثر نہ ہو تا تھا لیکن یہ آیت سن کر اس کی حالت بدل گئی یہ اصلاح کنورشن کہلاتی ہے۔ایک سلوک ہوتا ہے۔یعنی انسان اپنی اصلاح کی آہستہ آہستہ کو شش کرتا ہے وہ ذکر الہی کرتا ہے مگر کبھی اس سے غلطی بھی ہو جاتی ہے اس پر وہ تو بہ کرتا ہے اور دوسروں سے دعائیں کراتا ہے اور اس طرح اپنی اصلاح میں لگا رہتا ہے لیکن کبھی یہ دونوں باتیں ایک ہی انسان میں پائی جاتی ہیں جماعت احمدیہ میں جو شخص داخل ہو تا ہے اس پر یہ دونوں حالتیں آتی ہیں جب کوئی پہلے پہل داخل ہوتا ہے تو وہ ابدال میں شامل ہوتا ہے ایک عظیم الشان تغیر اس پر آتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے یدعون لک ابدال الشام 2 شام کے ابدال تیرے لئے دعائیں کرتے ہیں گو اس جگہ ابدال شام کا ذکر ہے لیکن ہم اس نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ احمدیت میں بچے دل سے داخل ہونے والے ابدال میں شامل ہوتے ہیں۔یعنی شخصیت کو بدلنے والی ایک فوری تبدیلی ان میں پیدا ہوتی ہے جیسا کہ اس لفظ کے معنوں سے ثابت ہے۔بدل عوض کو کہتے ہیں اور تغیر کو بھی۔مراد یہ ہوتی ہے کہ پہلے وجود کی جگہ ایک نیا و جو د اس شخص کو لتا ہے۔مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بعض لوگ پورے ابدال بن جاتے ہیں اور بعض ناقص یعنی کچھ حصہ ان کا سلوک کا محتاج رہ جاتا ہے اور ان لوگوں کے لئے ضروری ہو تا ہے کہ آہستہ آہستہ مجاہدات سے اپنے بقیہ نقصوں کو دور کریں اس قسم کے نقصوں کو دور کرنے کے لئے وعظ اور نصیحت کی جاتی ہے مگر ނ خالی وعظ سے یہ کام نہیں ہو تا۔بلکہ ایک مستقل نگرانی کی حاجت باقی رہتی ہے۔حضور نے ۱۹۳۴ء کے اوائل میں تحریک سا لکین کی سا لکین کے لئے ضروری ہدایات نسبت متعدد خطبات دیئے جن میں سا لکین کو پانچ بنیادی ہدایات دیں جو یہ تھیں۔اول یہ کہ بجائے اپنے کسی بھائی کو بد نام کرنے کے پہلے عام رنگ میں نصیحت کی جائے کہ وہ لوگ جنہیں کہیں سے روپیہ آنے کی امید نہ ہو۔وہ قرض نہ لیا کریں۔دوم روپیہ دینے والوں کو نصیحت کریں کہ ایسے لوگوں کو قرض دینے سے اجتناب کیا کریں۔سوم یہ کہ دھوکہ باز کا فریب جماعت میں ظاہر کریں۔تالوگ اس سے بچ کر رہیں۔چہارم احباب اپنے اپنے نقائص کا پتہ لگا ئیں اور ان کی اصلاح کریں۔اس سلسلہ میں اپنے نفس کا محاسبہ کیا جائے۔دوسرے اس امر پر غور کیا جائے کہ غیر اس کے متعلق کیا کہتے ہیں۔العالمین کی صفت کے ماتحت تو کام ہوتے ہی رہتے ہیں۔رحمانیت کی صفت کے ماتحت بھی نیکیاں کریں