تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 143
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ شہرت ہوئی۔۱۴۳ مباحثہ بٹالہ : (۱۷/ دسمبر ۱۹۳۳ء) یہ مباحثہ صداقت مسیح موعود " اور " امکان نبوت پر تھا جماعت احمدیہ کی طرف سے پہلے مضمون کے لئے مولوی عبد الغفور صاحب فاضل اور دوسرے مضمون کے لئے ملک عبد الرحمن صاحب خادم پیش ہوئے۔مناظر اہل حدیث مولوی محمد یوسف صاحب درشت کلامی اور بد تہذیبی کے علاوہ اپنی ہمہ دانی اور منطق پر بہت اتراتے تھے۔مگر خادم صاحب نے دس منٹ تک ایسی زبردست تقریر کی کہ وہ آخر تک سراسیمہ رہے اگر چہ مخالفوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ اس مناظرہ میں کوئی شخص نہ جائے اور کہ مناظرہ میں شامل ہونے والا کا فرادر دائرہ اسلام سے خارج ہو کر مرزائی ہو جائے گا۔مگر ہزار ہا غیر احمدی مناظرہ میں شامل ہوئے اور نہایت دلچسپی سے آخر تک موجود رہے۔HD مناظرہ اٹاوہ: ( شروع نومبر ۱۹۳۳ء) مولوی محمد نذیر صاحب فاضل ملتانی نے علمائے اہل حدیث (مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اور مولوی محمد یوسف صاحب) سے تینوں مخصوص مسائل پر مناظرہ کیا۔غیر احمدیوں اور غیر مسلموں نے رائے دی کہ احمدی مناظر کے دلائل کا جواب مناظر اہل حدیث نہ دے سکے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اہل حدیثوں نے اس بات کی بھی کوشش کی کہ آخر میں ایک مصنوعی احمدی تیار کر کے احمدیت سے تائب ہونے کا اعلان کرایا جائے مگر جس شخص نے اس اعلان کا وعدہ کیا تھا اس نے از خود ظاہر کیا کہ احمدی مناظر کے پیش کردہ دلائل اور اہل حدیث کی جانب سے جواب نہ دیئے جانے پر جو اثر پبلک پر اور مجھ پر ہوا تھا اس کے سبب مجھے اس قسم کے اعلان کی جرات نہ ہو سکی۔نئی مطبوعات ۱۹۳۳ء میں علماء سلسلہ کی طرف سے مندرجہ ذیل کتب شائع کی گئیں۔۱۳۵۴ (1) " اچھوتوں کی درد بھری کہانیاں"۔(۲) " اچھوتوں کی حالت زار۔(معاشہ ملک فضل ح صاحب کی قابل قدر تالیفات جن میں ایک مظلوم مخلوق کی قابل تعریف خدمت کی گئی تھی 12 (۳) تسهیل العربیہ " ( عربی اردو لغت جسے حضرت مولانا محمد جی صاحب اور چودھری غلام محمد صاحب بی۔اے نے نہایت محنت سے تیار کیا۔) (۴) "برق احمدیت" (لال حسین صاحب اختر کی کتاب " ترک مرزائیت" کا جواب جو آغا عبد العزیز صاحب فاروقی نے شائع کیا) (۵) صرف و نحو جدید فیض ( ابو اکمل حضرت مولانا امام الدین صاحب فیض کے تعلیمی