تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 131
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ طرف سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔مولوی رحمت علی صاحب طالب علمی کے زمانہ اور اب بھی اتنے سادہ ہیں کہ لوگ عام طور پر ان کی باتوں پر ہنس پڑھتے ہیں۔غرض وہ بہت سادہ نہیں مگر وہ جہاں جہاں بھی گئے وہاں عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا اور لوگ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے کہ ان کا مقابلہ ان کے علماء نہیں کر سکتے ، کچھ عرصہ ہوا یہاں ڈچ قونصل مجھے ملنے کے لئے آیا۔اس نے بھی مجھ سے ذکر کیا کہ مولوی رحمت علی بہت بڑا عالم ہے وہاں کا ایک پادری یہاں آیا۔اس نے بھی یہی کہا۔بات اصل یہ ہے کہ مولوی رحمت علی صاحب اپنے آپ کو بیچ سمجھ کر اللہ تعالی کے حوالے کر دیتے ہیں اور پھر اس کی راہ میں کام کرتے ہیں اس پر خدا تعالیٰ اپنی خاص برکتیں نازل کرتا اور ہر موقعہ پر ان کو کامیابی عطا کرتا ہے انہوں نے پہلے سماٹرا میں ایک بہت بڑی جماعت قائم کی۔اب وہ جادا بھیجے گئے یہ تعلیم یافتہ علاقہ ہے۔مولوی صاحب اگر چہ اس علاقہ کی زبان سے ناواقف تھے مگر باوجود اس کے گزشتہ تین ماہ کے اندر انہوں نے تین زبر دست مباحثے کئے ہیں ان کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دو جگہ بڑی زبردست جماعتیں قائم ہو گئی ہیں یہاں ہندوستان میں ایک مبلغ دو دو سال تک تبلیغ کر تا رہتا ہے تو ایک دو احمدی ہوتے ہیں مگر وہاں ہو گرا اور بٹاؤ یہ دو مقامات میں تھوڑے عرصہ میں بڑی بڑی جماعتیں پیدا ہو گئیں جن کی تعد اد دو دو اڑھائی اڑھائی سو افراد کے قریب ہے اور وہ لوگ تعلیم یافتہ ہیں۔مگر مولوی رحمت علی صاحب جب آئیں گے تو پھر بھی ویسے ہی سادہ ہوں گے جیسے پہلے تھے۔ان کے مباحثات کا ذکر جب غیر احمدی اخبارات میں چھپتا ہے تو بہت تعریف کی جاتی ہے وہ لکھتے ہیں مولوی رحمت علی صاحب مباحثہ میں اس طرح بولتے ہیں جس طرح آسمان سے گرج کی آواز آتی ہے ان کے مقابلہ میں ہمارے ہیں ہیں اور تیں تمہیں مولوی تھراتے اور کانپتے ہیں۔وہ اخبارات مولوی رحمت علی صاحب کا اس طرح ذکر کرتے ہیں کہ گویا وہ جماعت احمدیہ کے تمام علماء کا نچوڑ ہیں۔یہ اسی اخلاص اور بے نفسی کا نتیجہ ہے جس سے مولوی صاحب کام کرتے ہیں۔مجھے یہ پڑھ کر حیرت ہوئی کہ ایک غیر احمدی اخبار نے لکھا ایک مباحثہ میں بیس سے زیادہ مولوی مقابلہ پر تھے۔مگر وہ مولوی صاحب سے کانپتے تھے اور ڈرتے تھے۔جاوا اور کاٹرا کے علاوہ اور جزائر میں بھی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔امریکہ میں تبلیغ کا جو کام ہو رہا ہے اس کی تفصیل میں نہیں بیان کرتا۔چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب خود دیکھ آئے ہیں اور انہوں نے اس کے متعلق تقریر بھی کی ہے وہ اس کام سے بہت ہی متاثر ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ صوفی مطیع الرحمن صاحب کو اسلامی لٹریچر اور اسلامی مسائل کے متعلق یہ درجہ حاصل ہے کہ اسلامی لٹریچر کے بڑے بڑے ماہرین ان کے سامنے کوئی بات پیش کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ صوفی صاحب اسے غلط نہ قرار دے دیں۔