تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 127
تاریخ احمدیت جلد ؟ ۱۲۷ کرتے ہوئے انہیں ان کی کامیابی اور مع الخیر مراجعت پر مبارکباد و خوش آمدید عرض کرتے ہیں "۔علم طب کی سرپرستی قادیان نے ہمیشہ فن طب کی سرپرستی کی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خاندانی روایات کے مطابق طب میں گھرا شغف تھا اور خدا تعالی کی طرف سے شفاء کا اعجازی نشان تو اتنی کثرت اور تواتر سے حضور کے ہاتھ پر ظاہر ہوا کہ ایک جہان انگشت بدنداں رہ گیا۔اسی طرح حضرت خلیفتہ المسیح اول انیسویں صدی کی دنیائے طب میں مسلمہ شخصیت تھے جن کی طبابت اور حکمت کا شہرہ چار دانگ عالم میں پھیلا ہوا تھا ہندا جب آپ قادیان میں ہجرت کر کے آگئے تو قادیان طبابت کا بھی مرکز بن گیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو طب خاندانی ورثہ میں ملی اور حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی شاگردی نے اسے چار چاند لگادیئے۔اور آپ کے عہد خلافت میں فن طب نے بہت فروغ پایا۔اس حقیقت کے پیش نظر پنجاب کے مشہور حکیم حاذق سید علی احمد صاحب نیر واسطی (لاہور) نے اس سال حضور کی خدمت میں مندرجہ ذیل مراسلہ بھیجا۔از دفتر دیسی دواخانہ چونا منڈی لاہور زیر سر پرستی حکیم سید علی احمد صاحب نیر واسطی جناب المكرم السلیم دنیاز مجھ سے زیادہ جناب پر یہ حقیقت روشن ہے کہ کسی قوم کی تاریخ اسی وقت زندہ رہ سکتی ہے جبکہ اس کے علوم و فنون کا تحفظ کیا جائے مسلمان اگر دنیا میں زندہ رہنا چاہتے ہیں تو یقینا انہیں اپنے علوم و فنون کی جانب اعتنا کرنا پڑے گا۔انہیں اپنے علم کلام ، علم معانی ، منطق ، فلسفہ اور اس ضمن میں اپنے علم طب پر خصوصی توجہ مبذول کرنی ہوگی۔قادیان نے ہمیشہ سے علم طب کی سرپرستی کی ہے۔خود مرزا صاحب ایک بہت بڑے فاضل جید اور حاذق طبیب تھے۔حکیم نور الدین صاحب بھیر دی کا مرتبہ اطبائے کاملین کی صف اول میں خصوصاً بہت بلند ہے ان کے مجربات کے نسخوں اور ان نسخوں کی ترکیبوں کو دیکھ کر جالینوس اور شیخ کے عہد کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے۔ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کی ذات گرامی سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ اس فن عزیز کی سر پرستی کے لئے اب عملی قدم بڑھا ئیں۔لکھنا بہت کچھ تھا لیکن سردست ان چند سطور پر اکتفا کیا گیا۔سردار محمد خاں