تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 118
تاریخ احمدیت جلد ۲ 11A نے خطبہ صدارت میں ان لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے جنہوں نے اردو کی ترقی میں نمایاں حصہ لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان لوگوں کی صف میں شمار کیا جن کو آج اردو زبان میں بطور سند پیش کیا جاتا ہے۔مثلاً پروفیسر آزاد، مولانا حالی، سرسید احمد خاں داغ دہلوی ، امیر مینائی، جلال لکھنوی، پنڈت رتن ناتھ سرشار (ملاحظہ ہو رپورٹ اجلاس مذکورہ صفحہ (۷۶) پھر اسی رپورٹ کے صفحہ ۷۲ پر پنجاب کے انشاء پردازوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اردو زبان کے اعلیٰ اور بلند پایہ انشاء پردازوں میں شمار کیا گیا۔شکاگو کی عالمی جمعیتہ مذاہب اتحاد مذاہب کانفرنس شکاگو کے لئے افتتاحی پیغام (WORLD FELLOW (SHIP OF FAITHS کے وائس پریذیڈنٹ مین سٹیفنز وائز کی طرف سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں یہ درخواست موصول ہوئی کہ شکاگو میں (۲۷/ اگست تا ۱۷/ ستمبر ۱۹۳۳ء) دوسری عالمی مذہبی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جس میں خود شرکت فرما کر منتظمین کی عزت افزائی کریں یا اپنی طرف سے دو ایک نمائندے ہی مقرر فرما دیں جو اس میں شامل ہوں اس پر حضور نے صوفی مطبع الرحمن صاحب بنگالی اور میاں محمد یوسف صاحب کو جو امریکہ کے مبلغ تھے۔کانفرنس میں شرکت کا ارشاد فرمایا۔نیز منتظمین کا نفرنس کی درخواست پر حسب ذیل پیغام ۲۲/ اگست ۱۹۳۳ء کو بذریعہ تار ارسال فرمایا۔" مجھے ورلڈ فیلوشپ آف نیستم کے مقاصد سے بے انتہاد لچسپی ہے کیونکہ اس کے مقصد میں میں اس اعلان کی تکمیل دیکھتا ہوں جو تیرہ سو سال پہلے قرآن کریم نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔یعنی کوئی قوم نہیں جس میں نبی نہ گزرا ہو اور یہ کہ محض بدی کبھی دنیا میں قائم نہیں رہ سکتی وہ مذاہب جو سینکڑوں ہزاروں سال تک علی الاعلان اپنی تعلیم پیش کرتے رہے ہیں۔اور لاکھوں آدمیوں سے والہانہ فرمانبرداری کراتے رہے ہیں ممکن ہی نہیں کہ کسی گندے سرچشمہ سے نکلے ہوں یا اپنا سب حسن کھو چکے ہوں۔میں ان لوگوں میں سے نہیں جن کا یہ عقیدہ ہو کہ ہر راستہ پر چل کر خدا مل سکتا ہے۔لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ روشنی کے مینار تک پہنچانے کے لئے روشن سڑکوں کی بھی ضرورت ہے۔جو شخص سڑکوں کو اندھیرا کرتا ہے۔وہ مینار کو بھی ویران کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پس جو شخص دوسرے مذاہب کی عیب جوئی میں اپنے مذہب کی فتح دیکھتا ہے وہ نادان ہے اگر خدا تعالیٰ کا نور ہر قوم اور ہر ملک میں کسی نہ کسی صورت میں موجود نہیں تو لوگ بینائی کھو بیٹھیں گے اور جب بینائی جاتی رہے تو نور کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔پس جو جماعت لوگوں کو اس صداقت سے آگاہ رکھنے کی کوشش کرتی ہے کہ ہر