تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 117 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 117

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ 114 صاحب نے اپنی تقریر میں موجودہ اقتصادی بدحالی پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اقتصادیات کے متعلق جو اسلام نے نظریہ پیش کیا ہے وہ مغربی ماہرین اقتصادیات کے نقطہ نگاہ سے بالکل مغائر ہے کیونکہ اسلام کاملا کسی ایک شخص کو تمام اموال کا مالک نہیں سمجھتا بلکہ وہ اموال میں تمام لوگوں کو شریک سمجھتا اور ان کا حق اپنے اموال میں سے دینے کی تاکید کرتا ہے اور اغنیاء کو تاکید کرتا ہے کہ وہ فقراء کا خیال رکھیں۔آپ نے اس حصہ مضمون کے لئے آیت کریمه فى اموالهم حق للسائل و المحروم سے استدلال کیا۔خاتمہ تقریر پر آپ نے نہایت صراحت سے یہ امر بیان کیا کہ مغرب کو اقتصادی نظام میں جو پیچیدگیاں اور مشکلات در پیش ہیں ان کا بجز اس کے کوئی حل نہیں کہ وہ اسلامی اصول کو خضر راہ بنائے جو بے شمار حکمتوں اور مصالح پر مبنی ہیں اور جن پر عمل کرنے سے ہمیشہ کامیابی ہوتی ہے “۔اردو سیکھنے کیلئے حضرت مسیح موعود کی کتب پڑھنے کی تحریک ۱۲۳ جولائی ۱۹۳۳ء کو طلباء جامعه احمدیه و مدرسہ احمدیہ نے مولوی نذیر احمد صاحب مبشر مبلغ افریقہ کے اعزاز میں ایک دعوت کا اہتمام کیا۔اس موقعہ پر سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے دوبارہ تحریک فرمائی کہ احمدی طلبہ کو اردو سیکھنے کے لئے حضرت مسیح موعود کی کتب پڑھنی چاہئیں اس تعلق میں یہ بھی ارشاد فرمایا۔" جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دینی امور میں اصلاح کی ہے وہاں اردو زبان میں بھی بہت بڑی اصلاح کی ہے چنانچہ ایک شخص نے لنڈن یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے انگریزی لٹریچر کا اردو لٹریچر پر اثر " کے عنوان سے ایک مقالہ لکھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ آپ کی تحریروں نے زبان اردو پر خاص اثر ڈالا ہے "۔اب اردو کے حامل احمد ی ہوں گے یا یہ کہ اردو کے حامل احمدی ہو جائیں گے۔۔۔۔زمانہ خود اردو کو اس طرف لے جا رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ اردو کے سمجھے جائیں گے پس ہمارے طلباء کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب نمونہ اور ماڈل ہونی چاہئیں خصوصاً آخری زمانہ کی کتابیں ان کی روانی اور سلاست پہلے کی نسبت بہت بڑھی ہوئی ہے ان کی اردو نمونہ کے طور پر ہے اور وہی اردو دنیا میں قائم رہے گی"۔یہاں ضمنا یہ ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ دسمبر ۱۹۱۳ء میں "آل انڈیا محمدن اینگلو اور ٹیل ایجوکیشنل کانفرنس کا ستائیسواں اجلاس منعقد ہوا۔جس میں خواجہ غلام الثقلین (۱۸۷۱ء ۱۹۱۵ء)