تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 116
تاریخ احمدیت جلد ۷ 114 پہلا باب (فصل ہفتم) چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی لنڈن میں مذہبی وسیاسی خدمات چوہدری ظفر الله خاں صاحب ہندوستان کے آئندہ نظام ملکی و آئین اساسی کو ترتیب دینے کے لئے دوسرے مسلم زعماء ہند کے ساتھ اس سال بھی لنڈن تشریف لے گئے۔اور قریباً تین ماہ تک گول میز کانفرنس کی کمیٹیوں میں شرکت فرما کر مفاد اسلامی کو تقویت پہنچاتے رہے۔نیز مسلمانان فلسطین کی حمایت کے لئے کئی مرتبہ وزیر ہند اور وزیر نو آبادیات اور دیگر افسروں سے ملاقات کی۔ان سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ آپ حسب معمول مسجد فضل لنڈن میں تشریف لاتے اور لیکچر دیتے رہے۔اور جہاں بھی موقعہ ملا اسلام کی تبلیغ میں حصہ لیا۔جولائی ۱۹۳۳ء میں نیشنل لیگ (لندن) کے زیر انتظام ہندوستان کے مسلم مندوبین کے لیکچر ہوئے چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے اس جلسہ میں اسلامی نظریات کی برتری پر نہایت کامیاب لیکچر دیا جس پر یا فاء (فلسطین) کے ایک اخبار الجامعہ الاسلامیہ" نے ۱۲/ جولائی ۱۹۳۳ء کے پرچہ میں والا سلام فی البرلمان الا نکلیزی" کے عنوان سے مفصل نوٹ لکھا جس کا ترجمہ یہ ہے۔حال ہی میں انگریزی پارلیمنٹ کے ایک حصہ میں بعض ان مسلمان اصحاب کے لیکچر ہوئے جو ہندوستان سے جائنٹ سیلیکٹ کمیٹی کے مباحث میں شریک ہونے کے لئے تشریف لائے ہیں۔یہ جائنٹ سیلیکٹ کمیٹی ہندوستان کی آئندہ آئین اساسی کو ترتیب دینے اور نظام حکومت کا ڈھانچہ تیار کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔اس جلسہ میں غیر معمولی طور پر لارڈز - ہاوس آف کامنز کے ممبران اور بعض دیگر معززین نے شمولیت کی۔لارڈ ڈربی جو آج سے کئی سال پیشتر ہندوستان کے افسر رہ چکے ہیں صدر جلسہ تھے سب سے پہلے سر آغا خان نے اور بعد ازاں ڈاکٹر شفاعت احمد خاں ، سر محمد یعقوب اور السید ظفر اللہ خاں نے تقاریر کیں۔ان تمام کے خطبات کا موضوع یہ تھا کہ اسلام ان مشکلات کا کیا حل پیش کرتا ہے جو موجودہ دور میں رونما ہو رہی ہیں۔لیکچر تو سب نے دیئے مگر حق یہ ہے کہ السید ظفر اللہ خاں جو حکومت ہند کے وزیر تعلیم رہ چکے ہیں انہوں نے اپنے اصل موضوع پر نہایت خوبی اور سلاست کے ساتھ تقریر فرمائی۔اور انہی کی ایک تقریر ایسی تھی جس میں مقررہ موضوع پر نہایت عالمانہ انداز میں بحث تھی۔آپ نے اپنی تقریر سے یورپین اور مسلمان دونوں طبقوں کو محفوظ کیا۔السید ظفر اللہ خاں