تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 110
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ یادگار چھوڑیں اور ان کے نیک کاموں کی وجہ سے ان کی ماں کا درجہ بلند ہو تا رہے۔یہ بچے اپنی ماں کی طرح نہایت صابر ہیں۔حنیف احمد سلمہ اللہ تعالیٰ تو ابھی چھوٹا ہے وہ چونکہ صرف ڈیڑھ ماہ کا تھا کہ ان کی پڑھائی کی وجہ سے ماں سے جدا کر دیا گیا۔اور ننھیال بھجوا دیا گیا۔وہاں سے ماں کی وفات سے صرف تین دن پہلے آیا۔وہ گویا اپنی ماں سے بالکل ناواقف ہے اور ابھی اس کی عمر بھی ایک سال سے دو تین ماہ اوپر ہے اس لئے اسے تو ماں کی موت یا زندگی کی کوئی حس ہی نہیں لیکن رفیع احمد سلمہ اللہ تعالیٰ کہ وہ بھی اپنی ننھیال گیا ہوا تھا اور والدہ کی وفات سے صرف تین دن پہلے واپس آیا۔اس کی عمر چھ سال سے کچھ اوپر ہے اس کی نسبت راولپنڈی سے واپسی پر مجھے معلوم ہوا کہ جوں ہی ان کی والدہ فوت ہوئی وہ اپنی بہن امتہ النصیر کو جو والدہ کے پاس رہنے کے سبب سے سب سے زیادہ والدہ سے مانوس تھی۔ایک طرف لے گیا اور ایک دروازہ کے پیچھے کھڑے ہو کر دیر تک اسے کچھ سمجھاتا رہا۔اس کے بعد جب مرحومہ کو غسل دے کر چارپائی پر لٹا دیا گیا۔تو ایک پھولوں کا ہار لے کر آیا اور پہلے والدہ کے ماتھے پر بوسہ دیا اور پھر ہار گلے میں ڈال کر اپنے آنسوؤں کو بزور روکتا ہوا اپنے منہ کو ایک طرف کر کے تاکہ اس کے جذبات کو کوئی دیکھ نہ لے دوسرے کمرہ میں چلا گیا۔اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ وہ ایک چھ برس کا بچہ ہے یہ عمل ایک غیر معمولی عمل ہے ایک حیرت انگیز صبر کا مظاہرہ ہے جب میں واپس آیا اور میں نے رفیع احمد کو بلوایا تو میں نے دیکھا کہ وہ میری آنکھوں سے آنکھیں نہیں ملا تا تھا اور اپنے جذبات کو پورے طور پر دبانے کی کوشش کر رہا تھا۔وہ ڈرتا تھا کہ اگر میری آنکھوں سے اس کی آنکھیں ملیں تو اپنے آنسو نہیں روک سکے گا۔شاید وہ کہیں چھپ کر رویا ہو تو ر دیا ہو۔میں نے اسے روتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔یہ تو رفیع احمد کا حال تھا۔امتہ النصیر جو تین ساڑھے تین سال کی عمر کی بچی ہے اور ہر وقت اپنی ماں کے پاس رہنے کے سبب سے بہت زیادہ اس سے مانوس تھی۔اپنے بھائی کے سمجھانے کے بعد وہ خاموش سی ہو گئی۔جیسے کوئی حیران ہوتا ہے۔وہ موت سے ناواقف تھی وہ موت کو صرف دو سروں سے سن کر سمجھ سکتی تھی نہ معلوم اس کے بھائی نے اسے کیا سمجھایا کہ وہ نہ روئی نہ چینی نہ چلائی۔وہ خاموش پھرتی رہی اور جب سارہ بیگم کی نعش کو چارپائی پر رکھا گیا اور جماعت کی مستورات جو جمع ہو گئی تھیں رونے لگیں تو کہنے لگی۔میری امی اتو سو رہی ہیں۔یہ کیوں روتی ہیں۔میری امی جب جاگیں گی۔تو میں ان سے کہوں گی آپ سوئی تھیں اور عور تیں آپ کے سرہانے بیٹھ کر روتی تھیں۔جب میں سفر سے واپس آیا اور امتہ النصیر کو پیار کیا تو اس کی آنکھیں پر نم تھیں لیکن وہ روئی نہیں۔اس دن تک میں نے کبھی اسے گلے نہیں لگایا۔اس دن پہلی رفعہ میں نے اسے گلے لگا کر پیا ر کیا