تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 107
تاریخ احمدیت۔جلد ؟ 1۔6 گفتگو کی کہ میرے دل پر اس کا ایک گہرا نقش پڑا۔جب وہ دوا لے کر چلی گئیں۔میں اوپر دو سرے گھر کی طرف گیا۔جس میں میری مرحومہ بیوی رہا کرتی تھیں۔وہاں کچھ مذہبی تذکرہ ہوا اور ایک برقع میں سے ایک سنجیدہ آواز نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی ڈائری کا حوالہ دیا کہ آپ اس موقعہ پر اس طرح فرماتے ہیں۔یہ آواز پروفیسر صاحب کی ہمشیرہ ہی کی تھی اور حوالہ ایسا برجستہ تھا کہ میں دنگ رہ گیا۔میری حیرت کو دیکھ کر امتہ المی مرحومہ نے کہا۔انہیں حضرت صاحب کی ڈائریوں اور کتب کے حوالے بہت یاد ہیں اور حضرت مسیح موعود (علیہ السلام) کے فارسی شعر بھی۔یہ کہتی ہیں کہ میں نے الحکم اور بدر میں سے اکثر ڈائریاں پڑھی ہیں اور مجھے یاد ہیں۔میرے دل نے کہا۔یہ بچی ایک دن خداتعالی کے فضل سے سلسلہ کے لئے مفید وجود بنے گی۔میں وہاں سے چلا گیا اور وہ بات بھول گئی۔جب امتہ الحی مرحومہ کی وفات کے بعد مجھے سلسلہ کی مستورات کی تعلیم کی نسبت فکر پیدا ہوئی تو مجھے اس بچی کا خیال آیا۔اتفاق سے اس کے والد ماجد مولانا عبد الماجد صاحب بھاگلپوری جلسہ پر تشریف لائے ہوئے تھے۔میں نے ان سے اس کا ذکر کیا۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو میں نے لڑکی کی صحت کے متعلق رپورٹ کرنے کو بھیجا اور انہوں نے رپورٹ کی کہ صحت اچھی ہے کچھ فکر کی بات نہیں ان کی اس رپورٹ پر میں نے جو خط مولوی صاحب کو لکھا اس کا ایک فقرہ حسب ذیل ہے۔"ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب آج واپس تشریف لے آئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالٰی کے فضل سے سائرہ سلمہا اللہ تعالی کی صحت ایسی نہیں جس سے کچھ خدشہ ہو۔چونکہ فیصلہ کی بناء طبی مشورہ پر رکھی گئی تھی۔اور طبی مشورہ موافق ہے اس لئے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر مندرجہ ذیل امور میں آپ کی رائے اثبات میں ہو اور سارہ سلمہا اللہ تعالٰی بھی ایسی ہی رائے رکھتی ہوں تو ان کا نکاح مجھ سے کر دیا جائے"۔اس خط کی نقل میں نے رکھی ہوئی تھی اتفاقاً آج سارہ بیگم مرحومہ کا پہلا خط تلاش کرنے لگا تو ساتھ ہی اس خط کی نقل بھی مل گئی۔غرض یہ خط میں نے لکھا اور مولوی صاحب موصوف نے جو کچھ میں نے لکھا تھا اسے بخوشی قبول کیا۔اور ہمارا انکاح ہو گیا۔سارہ جو بھا گلپور کے ایک نہایت معزز اور علمی خاندان میں پیدا ہوئی تھی ۱۹۲۵ء میں اس سال کی مجلس شوری کے موقعہ پر میرے نکاح میں آگئیں ان کا خطبہ نکاح خود میں نے پڑھا اور اس طرح ایک مردہ سنت پھر قائم ہوئی۔اللہ تعالٰی کی لاکھوں برکتیں ہوں مولوی عبد الماجد صاحب پر جنہوں نے ہر طرح کی تکالیف کو دیکھتے ہوئے ایک بے نظیر اخلاص کا ثبوت دیا اور میرے ارادوں کو پورا کرنے کے لئے مجھے ایک ہتھیار مہیا کر دیا۔