تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 108 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 108

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ LA مرحومہ امتہ الحی کی وفات سے جو ایک قومی نقصان مجھے نظر آتا تھا اس کی ذہنی اذیت نے مجھے اس بات کے لئے بے تاب کر دیا کہ سارہ کے قادیان آنے سے پہلے ہی انہیں ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاؤں۔چنانچہ میں نے انہیں ایک خط لکھا جس میں بالا جمال آنے والی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔اور امید ظاہر کی کہ وہ میرے لئے مشکلات کا نہیں بلکہ راحت کا موجب بنیں گی خط کے جواب میں کچھ دیر ہو گئی تو میں نے ایک اور خط لکھا۔اس کا جو جواب آیا دہ میں نے محفوظ رکھا ہوا تھا۔آج کہ مرحومہ اس دنیا سے اٹھ گئی ہیں۔آج کہ ہمارے تعلقات سفلی زندگی کے اثرات سے پاک ہو کر بالکل اور نوعیت کے ہو گئے ہیں۔آج کہ نہ ان کے لئے اس خط کے ظاہر ہونے میں کوئی شرم ہے اور نہ میرے لئے۔میں اس خط کو مرنے والی کی نیک یاد کو تازہ رکھنے کے لئے درج کرتا ہوں۔جب یہ مخط مجھے ملا۔اس وقت میری آنکھیں پر نم تھیں اور آج بھی کہ وہ مخط میری آنکھوں کے سامنے اس نہ واپس لوٹ سکنے والے زمانہ کو سامنے لا رہا ہے۔میری آنکھیں اشکوں سے پر ہیں۔اللہ تعالیٰ مجھ پر بھی اور مرحومہ پر بھی رحم فرمائے۔کہ اگر ہم گندے ہیں تو بھی اس کے ہیں اور نیک ہیں تو بھی اس کے ہیں وہ خط یہ ہے۔۲۴ اپریل ۰۲۵ و از احمد یہ ہاؤس بھاگلپور - بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم میرے واجب الاطاعت خاوند - السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاته عید کی نماز کے معابعد آپ کا نامہ ملا- دریافت حالات سے خوشی ہوئی۔امید ہے کہ میرادی سراخط بھی حضور کی خدمت میں پہنچا ہو گا۔حیران ہوں کہ کیا جواب تحریر کروں۔اللہ تعالی ہی اپنے فضل سے مجھ کو ہر طرح سے آپ کی منشاء اور مرضی کے مطابق بنا کر عملاً اس کا بہترین جواب بننے کی توفیق بخشے۔در نه من آنم کہ من دانم اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے مجھے بہ حیثیت آپ کی بیوی ہونے کے اپنے عظیم الشان فرائض کی ادائیگی کی ہمت و طاقت عطا فرمائے۔اور ہر ایک تنگی و ترشی کو اس راہ میں برداشت کرنے کی توفیق دے۔میں اپنے رب سے دعا کرتی ہوں کہ وہ میری ہمت و طاقت و علم و ایمان و ایقان و صحت میں بیش از پیش برکت عطا فرما کر مجھے اس مقصد عالی کے حصول میں کامیاب فرمائے۔میں اپنی زندگی کا مسلک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ ذیل فرمان کے مطابق بنانے کا فیصلہ کر چکی ہوں۔اللہ تعالٰی میرا معین ومددگار ہو۔بر آستان آنکه ز خود رفت بهریار چوں خاک شو و مرضی یارے دراں بھیجو