تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 106
تاریخ احمدیت جلد ؟ 1۔4 مندرجہ ذیل مکتوب سے کیا جاسکے گا جو انہوں نے دہلی سے ۳/ اپریل ۱۹۳۳ء کو حضرت امیرالمومنین کی خدمت میں بھجوایا۔حضرت مفتی صاحب نے لکھا۔بوہرہ کمیونٹی کے متعلق حضور کا تار ملا تھا اور سیٹھ اللہ بخش صاحب بھی اسمبلی میں گئے تھے ملیگ صاحب سے میں نے ان کے متعلق ذکر کیا تھا وہ کہتے تھے گورنمنٹ نے ایک کمیٹی بنائی تھی جس سے تحقیقات کر کے معلوم ہوا ہے کہ اس کمیونٹی کی میجارٹی یہ چاہتی ہے کہ وقف ایک آدمی کے ہاتھ نہ رہے میں نے کہا یہ مذہبی معاملہ ہے اور ابتدا و وقف کرنے والوں کا مقصد یہی تھا کہ امام جماعت کے اختیار میں سب کچھ رہے اس مقصد کے مطابق جیسا ہمیشہ سے ہو تا چلا آیا ہے اب اس کے خلاف گورنمنٹ کو مداخلت کرنا مناسب نہ ہو گا۔علیگ صاحب نے کہا گو ر نمنٹ تو مداخلت کرنا نہیں چاہتی اور یہ معاملہ متعلق بمبئی گورنمنٹ ہے ہم تو اس میں کچھ DIRECTIONS نہیں کرتے مگر میں اس بات کا خیال رکھوں گا کہ آپ ان کے امام کو SUPPORT کرتے ہیں۔۲۴۹ ۱۲۵۰ ۱۳ / مئی ۱۹۳۳ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی حضرت ساره بیگم صاحبہ کا حادثه ارتحال۔کی حرم اور حضرت مولانا عبد الماجد صاحب بھاگلپوری کی دختری حضرت سارہ بیگم صاحبہ کا قادیان میں انتقال ہو گیا۔حضور کو راولپنڈی میں اس الم انگیز واقعہ کی اطلاع ملی اور حضور نے حضرت مولانا شیر علی صاحب امیر مقامی کو تار دیا کہ جنازہ میں خود آکر پڑھاؤں گا۔چنانچہ حضور اگلے روز ۱۴/ مئی کو پونے نو بجے قادیان تشریف لے آئے۔اور اسی دن سو بارہ بجے کے قریب حضرت مسیح موعود کے باغ میں ایک جم غفیر کے ساتھ نماز جنازہ پڑھائی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی حضرت حافظ صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور مرحومہ کے بھائیوں نے میت کو لحد میں اتارا اور آپ بہشتی مقبرہ کے قطعہ خاص میں حضرت سیدہ امتہ الحی صاحبہ کے پہلو میں سپرد خاک کر ۲۵۱ دی گئیں۔سید نا حضرت امیر المومنین نے حضرت سارہ بیگم صاحبہ کے نیک از کار قائم رکھنے اور دوسری احمدی خواتین کو مرحومہ کی طرح محض رضاء الہی اور خدمت سلسلہ کی خاطر تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب و تحریص دلانے کی غرض سے "میری سارہ" کے عنوان سے مفصل مضمون لکھا جس میں مرحومہ سے نکاح کی وجوہ اور ان کی فنائیت ، قابلیت اور اخلاق پر روشنی ڈالی چنانچہ تحریر فرمایا۔غالبا ۱۹۲۴ ء کا شروع تھا یا ۱۹۲۳ء تھا۔جب برادرم پروفیسر عبد القادر صاحب ایم۔اے قادیان تشریف لائے ہوئے تھے وہ کچھ بیمار ہوئے اور ان کے لئے ہو میو پیتھک دوا لینے کے لئے ان کی چھوٹی ہمشیرہ میرے پاس آئیں انہوں نے اپنے بھائی کی بیماری کے متعلق کچھ اس فلسفیانہ رنگ میں مجھ سے