تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 103 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 103

تاریخ احمدیت۔جلد ۷ کہ ان کو پھر سے سیاسیات ہند میں حصہ لینے کے لئے آمادہ کیا جائے۔اس کام کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد کو منتخب فرمایا۔چنانچہ آپ نے مارچ ۱۹۳۳ء میں انگلستان پہنچ کر حضور کی ہدایت و منشاء کے مطابق قائد اعظم محمد علی جناح سے رابطہ قائم کر لیا تھا اور قائد اعظم کا مسجد پٹنی میں آکر لیکچر دینا اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی۔" چنانچہ حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد کا بیان ہے کہ۔یہ بھی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ قائد اعظم نے انگلستان سے ہندوستان واپس آکر مسلمانوں کی سیاسی قیادت سنبھالی اس طرح بالاآخر ۱۹۴۷ء میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔جب میں ۱۹۳۳ء میں امام مسجد لندن کے طور پر انگلستان پہنچا تو اس وقت قائد اعظم انگلستان میں ہی سکونت رکھتے تھے وہاں میں نے ان سے تفصیلی ملاقات کی اور انہیں ہندوستان واپس آگر سیاسی لحاظ سے مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے پر آمادہ کیا۔مسٹر جناح سے میری یہ ملاقات تین چار گھنٹے تک جاری رہی میں نے انہیں آمادہ کر لیا کہ اگر اس آڑے وقت میں جب کہ مسلمانوں کی راہنمائی کرنے والا اور کوئی نہیں ہے انہوں نے ان کی پھنسی ہوئی کشتی کو پار لگانے کی کوشش نہ کی تو اس قسم کی علیحدگی قوم کے ساتھ بے وفائی کے مترادف ہوگی۔چنانچہ اس تفصیلی گفتگو کے بعد آپ مسجد احمد یہ لندن میں تشریف لائے اور وہاں با قاعدہ ایک تقریر کی جس میں ہندوستان کے مستقبل کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار فرمایا اس کے بعد قائد اعظم انگلستان کو خیر باد کہہ کر ہندوستان واپس آئے اور اس طرح چند سال کی جدوجہد کے بعد پاکستان معرض وجود میں آیا۔حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد کی خود نوشت مختصر سوانح حیات سے ایک اقتباس (انگریزی سے ترجمہ) ۱۲۴۶ (مولانا عبد الرحیم صاحب درد اپنی خود نوشت مختصر سوانح (انگریزی) میں اس امر کی مزید تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طراز ہیں :) قائد اعظم محمد علی جناح نے ۱۹۳۸ء میں بمقام علی گڑھ ایک تقریر کے دوران فرمایا کہ گول میز کانفرنس کے اجلاسوں میں مجھے اپنی زندگی کے سب سے بڑے صدمے سے دو چار ہو نا پڑا۔جونہی خطرہ کے آثار نمایاں ہوئے۔ہندوئیت دل و دماغ کے اعتبار سے اس طرح نمایاں ہوئی کہ اتحاد کا امکان ہی