تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 102
تاریخ احمد ۱۰۲ فیصلہ کے مطابق صیغہ نشر و اشاعت کی بنیاد پڑی۔جو آج تک جاری ہے اور بہت مفید تبلیغی خدمات بجا لا رہا ہے۔مسجد فضل لنڈن میں قائد اعظم محمد علی جناح کی تقریر اپریل ۱۹۳۳ء میں عید الاضحیہ کے موقع پر مسجد احمد یہ لنڈن میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔جس میں دو سو کے قریب مشہور شخصیتیں مدعو تھیں۔1 اس موقعہ پر حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درڈ کی تحریک پر قائد اعظم محمد علی جناح نے ”ہندوستان کے مستقبل " پر سرسٹیوارٹ سنڈیمین ایم۔اے (SIR STEWART SANDAMAN) کی صدارت میں تقریر کی جس میں آپ نے بتایا کہ ہندوستان اب بہت جلد جلد ترقی کرے گا۔نیز یہ کہ قرطاس ابیض کی تجاویز ہندوستان کو مطمئن نہیں کر سکتیں انہیں کامل خود مختاری ملنی چاہئے۔صدر جلسہ نے مسٹر جناح کے خیالات سے اختلاف کیا۔مگر درد صاحب نے ہر دو اصحاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دونوں قسم کے خیالات سن لئے ہیں اب ہمیں غور کر کے صحیح نتیجہ اخذ کرنا چاہئے۔قائد اعظم نے اپنی تقریر کا آغاز ان الفاظ سے کیا۔" THE ELOQUENT PERSUATION OF THE IMAM LEFT ME NO ESCAPE T امام صاحب کی فصیح و بلیغ ترغیب نے میرے لئے کوئی راہ بچنے کی نہیں چھوڑی " قائدا۔قائد اعظم کی یہ تقریر برطانوی اور ہندوستانی پریس کی خاص توجہ کا موجب بنی اور دی ایوننگ سٹینڈرڈ " (لندن) "ہندو" (مدراس)، "دی سیسمین" (کلکتہ) "مدراس میل" (مدراس) (پایونیر) (الہ آباد) ویسٹ افریقہ " (افریقہ) ، پیشن گزٹ " (اسکندریہ) وغیرہ اخبار نے اس کی خبر شائع کی۔مگر ساتھ ہی یہ چہ میگوئیاں بھی ہونے لگیں کہ ایک مذہبی جماعت کے مرکز میں سیاسی لیکچر کی وجہ کیا ہے؟ در اصل بات یہ تھی کہ قائد اعظم محمد علی جناح پہلی گول میز کانفرنس کے بعد اصلاح احوال کے لئے سخت مایوسی کا شکار ہو کر مستقل فیصلہ کر چکے تھے کہ اب وہ واپس ہندوستان نہ جائیں گے بلکہ حیات مستعار کے بقیہ سال انگلستان میں ہی بسر کر دیں گے چنانچہ خود لکھتے ہیں۔اب میں مایوس ہو چکا تھا مسلمان بے سہارا اور ڈانواڈول ہو رہے تھے کبھی حکومت کے یار وفادار ان کی رہنمائی کے لئے میدان میں آموجود ہوتے تھے۔کبھی کانگرس کے نیازمندان خصوصی ان کی قیادت کا فرض ادا کرنے لگے تھے۔مجھے اب ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں ہندوستان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا نہ ہندو ذہنیت میں کوئی خوشگوار تبدیلی کر سکتا ہوں نہ مسلمانوں کی آنکھیں کھول سکتا ہوں۔آخر میں نے لندن میں ہی بود و باش کا فیصلہ کر لیا "۔اس نا موافق صورت حال کے باوجود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کاولی منشاء اور قلبی خواہش تھی۔۲۴۴