تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 99
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ 49 اور تین بجے کی گاڑی سے لاہور تشریف لے گئے "۔گویا چودھری صاحب نے لنڈن سے واپسی پر سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے ”دار الامان " پہنچے اور وہاں مسجد میں پہنچ کر اپنا فرض ادا کیا۔اسے کہتے ہیں قوت ایمان اور یہی چیز ہے جو مسلمانوں کو سنگھت کر رہی ہے لیکن ہندوؤں میں جیسے ان کے لیڈر ویسے یہ خود نہ لیڈروں کو دھرم کا خیال ہے نہ عوام کو۔ذرا کوئی ہندو پاٹیکس کی طرف جھکتا ہے تو وہ سب سے پہلے دھرم اور دھار تک عقیدوں کے خلاف جہاد کرنا اپنا فرض سمجھ لیتا ہے چاہے کوئی کا نگر سی ہو یا غیر کانگری۔ہندو بھائی ہو یا قوم پرست ہر ایک ہندو اور ہندو لیڈر کو مسلم لیڈروں میں سے کسی نے نہیں تو چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے جو مثال پیدا کی اسے دیکھ کر یقیناً ہر ہندو لیڈر شرمندہ ہو رہا ہو گا "۔ایک ناگوار واقعہ اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا فیصلہ مولوی عبد الرحیم صاحب درد ۱۲ فروری ۱۹۳۳ء کو بغرض تبلیغ انگلستان روانہ ہونے والے تھے۔روانگی کے وقت بعض مقامی طلباء و اساتذہ نے بعض دفتری امور کی بناء پر آپ کے خلاف ایسا رویہ اختیار کیا جو سلسلہ احمدیہ کی روایات اور اسلامی تعلیم کے سراسر منافی تھا۔حضرت امیر المومنین کو دوسرے دن اس مظاہرہ کی اطلاع پہنچی تو حضور نے ایک طرف تو حضرت سیٹھ اسمعیل آدم صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ بمبئی کو تار بھیجا کہ جب مولوی صاحب جہاز پر سوار ہوں تو ان کے گلے میں پھولوں کا ایک بار حضور کی طرف سے اور چار ہارا اطراف عالم میں پھیلے ہوئے احمدیوں کی طرف سے ڈالے جائیں۔دوسری طرف حضور نے ۳ / فروری کو ایک تحقیقاتی کمیشن مقرر فرمایا۔جس میں قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے ، حضرت مولانا شیر علی صاحب حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم اے ناظر اعلیٰ اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو بطور مشیر شامل فرمایا اور اپنی نگرانی میں ۱۴ فروری سے ۱۷ / فروری تک مصروف تحقیقات رہے۔تحقیقات کے دوران حضور انور کی شفقت و ذرہ نوازی کے عجیب نظارے دیکھنے میں آئے۔حضور ان دنوں نا سازی طبع کے باوجود ایک ایسے معالمہ کی تحقیقات میں مصروف تھے جس کی وجہ سے حضور کو سخت صدمہ تھا مگر اس کے باوجود حضور کو ان لوگوں کے آرام اور تواضع کا خیال دامنگیر تھا جو تحقیقات کے لئے بلائے جاتے تھے۔حضور بار بار ان کو احترام کے ساتھ بٹھاتے اور ان کو آرام پہنچانے کے لئے انگیٹھی بھی رکھوا دیتے اور جب کھانے یا چائے کا وقت آتا تو جو لوگ اس وقت تحقیق کے لئے مدعو ہوتے ان کو بھی اپنے ساتھ کھانا کھانے یا چائے پینے کا شرف عطا فرماتے۔اسی قسم کے ایک موقعہ پر