تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 98 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 98

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ملنے سے پہلے اپنے پیرو مرشد خلیفہ قادیان کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے قادیان تشریف لے گئے تھے۔مجھے اس سے مطلب نہیں کہ چوہدری صاحب احمدی ہیں یا حنفی یا وہابی۔اس کے سامنے تو صرف ایک سوال تھا اور وہ یہ کہ مسلمان اپنے مذہب کا کتنا پابند ہے۔بخلاف اس کے پڑھے لکھے ہندو نوجوان مذہب کا مذاق اڑانا سب سے بڑی سعادت خیال کرتے ہیں "۔دوسرا نوٹ : " جو ہندو لیڈر شکایت کرتے ہیں کہ ان کی بات سننے والا کوئی نہیں۔گورنمنٹ کے ہاں ان کی سنی نہیں جاتی۔اور ہندو پبلک ان کی آواز پر عمل نہیں کرتی۔انہیں دیکھنا چاہئے کہ اس کی تمہ میں کونسی وجوہات کام کر رہی ہیں۔دوسری باتوں کے علاوہ ایک بات جو ہندو لیڈروں کو کمزور بنا رہی ہے وہ دھارمک پہلو میں ان کی لاپروائی ہے جتنا بڑا ہندو لیڈر ہو گا اتنا ہی زیادہ ناستک بننے کی کوشش کرے گا جوں جوں اس کا درجہ بڑھتا جائے گا۔وہ دیدوں کو جواب دیتا جائے گا۔شاستروں کو جواب دیتا جائے گا اور آخری منزل پر پہنچ کر شاید ایشور کو بھی جواب دینا مناسب سمجھ لیا جائے۔اس سے بڑھ کر قابل افسوس بات یہ ہے کہ ان باتوں کو فراخدلی اور آزاد خیالی کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے۔سوسائٹی اور جاتی کے پرخچے اڑا دینے والے جتنے کام ہیں ان کو کرنا فخر خیال کیا جاتا ہے ویدوں کو الہامی ماننا سدھانتوں پر چٹان کی طرح کھڑے رہنا دقیانوسی سپرٹ سمجھی جاتی ہے اور اسے تنگدلی کا اور غلامانہ ذہنیت کا نام دیا جاتا ہے۔مجھے ہندو جاتی کے انتشار کی سب سے بڑی وجہ یہی نظر آتی ہے۔جتلاؤ تو سہی ہندوؤں کے لئے کوئی مرکز چھوڑا بھی گیا ہے جس کے ارد گرد جمع ہوں یا آزاد خیالی یا مادر پدر آزادی کے طوفان میں سب کچھ غرق کر دیا گیا ہے کتنے ہی ہندو لیڈر گول میز کانفرنس میں شامل ہونے کے لئے لنڈن پہنچے لیکن کسی کے متعلق یہ سننے میں نہیں آیا کہ کوئی شخص دید کا پتک ساتھ لے گیا ہو ا د ر ا سے تختہ جہاز پر یا لنڈن کے ہوٹلوں میں دید منتر پڑھتے ہوئے دیکھا یا سنا گیا ہو۔اس کے بر عکس مسلم لیڈروں کو لے لیجئے۔قریباً ہر ایک مسلمان لیڈر کے پاس قرآن موجود تھا اور وہ ہر روز اس کا مطالعہ کرتے تھے۔اس سے بھی بڑھ کر ہندو لیڈرواپس آئے اور اپنی اپنی کو ٹھیوں میں چلے گئے لیکن ہندو لیڈروں کے لئے چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے ایک شمع ہدایت دکھلائی ہے اور ہندو لیڈروں کو بتلایا ہے کہ قوت ایمان اور اپنے مذہب کی محبت ہی اونچا اور بلند کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔چودھری ظفر اللہ خاں صاحب ۱۹/ جنوری کو جہاز سے اترے اور ایک دن دہلی رہ کر وہاں سے سیدھے ۲۲/ جنوری کو قادیان جاپہنچے اس کے متعلق جو رو مراد " الفضل " نے لکھی وہ یہ ہے کہ : احمدیہ چوک میں موٹر سے اتر کر مسجد مبارک میں نفل پڑھے۔پھر مقبرہ بہشتی میں دعا کے لئے تشریف لے گئے۔وہاں سے واپسی پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہاں کھانا کھایا