تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 164 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 164

تاریخ احمدیت جلد ۵ 160 174 قابل توجہ ہے۔سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری امیر شریعت " احرار کو مسلم تھا کہ رد احمدیت کے فن میں مولوی صاحب موصوف ان کے قائد ہیں چنانچہ ان کا بیان ہے کہ ” میری صدارت میرے دوستوں کا عطیہ ہے ورنہ اس منصب کے حقدار مولانا ظفر علی خاں ایڈیٹرز میندار ہیں۔جنہوں نے روز اول سے مرزائیت کی جڑوں پر کلہا ڑا رکھا ہے وہ اس فن میں ہمارے استاد ہیں "۔اس مقام پر مجلس احرار کی صرف ابتدائی تاریخ پر طائرانہ نظر ڈالنا مقصود تھا جس سے الحمد للہ ہم فارغ ہو چکے ہیں۔البتہ ہم آگے جانے سے پہلے مناسب سمجھتے ہیں کہ اس مجلس کے سیاسی نظریات اور اس کے سیاسی مزاج کی نسبت اس کے قائدین اور مخالفین دونوں کی بعض آراء و مقتبسات بطور نمونہ درج کر دیں تا ان واقعات و حوادث کی تہہ تک پہنچنے میں مدد ملے جو آئندہ مجلس احرار کی سیاسی پالیسی اور انتہاء پسندانہ روش کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کے خلاف رونما ہوئے اور جنہوں نے بر صغیر پاک و ہند کی سیاسی دن ہی فضا پر خطرناک اثر ڈالا۔امیر شریعت احرار کی رائے سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے آزادی ہند سے متعلق اپنا مثبت نظریہ بتاتے ہوئے فرمایا۔”ہمارا پہلا کام یہ ہے کہ غیر ملکی طاقت سے گلو خلاصی حاصل ہو اس ملک سے انگریز نکلیں یا نکالے جائیں تب دیکھا جائے گا کہ آزادی کے خطوط کیا ہوں گے۔۔۔اگر اس مہم میں سٹور بھی میری مدد کریں گے تو میں ان کا منہ چوم لوں گا " - جنرل سیکرٹری مجلس احرار کا بیان احرار کے ایک سابق جنرل سیکرٹری لکھتے ہیں۔احرار پنجاب کے اونی متوسط طبقے کے شہریوں کی ایک ایسی تحریک تھے۔جس میں جوش و جذبہ وافر تھا۔وہ لیگ کے ہمہ گیر سیاسی ذہن کے مقابلہ میں ایک مذہبی جماعت تھے اور کانگریس کی ہمہ گیر تنظیم کے مقابلہ میں ایک محدود سیاسی ذہن۔۔۔خود داخلی طور پر متضاد الخیال تھے۔لیکن اینٹی برٹش ذہن کی مشترکہ چھاپ نے انہیں ایک کر رکھا تھا۔جن طاقتوں کے خلاف صف آراء تھے ان کی مختلف الاصل جارحیت کے خلاف مذہبی زبان میں سیاسی اثر پیدا کرتے تھے۔اکابر احرار میں سے بیشتر کانگریس اور جمعیتہ العلماء کے ذہن کی سفارت کرتے۔مولانا ابو الکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی سے ایک گونہ عقیدت رکھتے اور ان کی ذات کے لئے نبرد آزما ہوتے تھے گویا سیاست و مذہب کے میدان میں انہیں اپنے ثانوی ہونے کا اقرار تھا۔احرار کسی تخلیقی فکر کے مظہر نہ تھے مگر ایجی ٹیشن اور پراپیگینڈا کے فن میں بے مثال تھے۔۔۔احرار میں قربانی احتجاج ، حوصلہ اور خطابت کا جو ہر وافر