تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 73 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 73

تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 69 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال کے متعلق ہو وہ اس وقت تک تبدیل نہ کیا جائے جب تک اس شرط کے ساتھ کہ اس قوم کے ۲/۳ ممبر اس کے بدلنے کے حق میں نہ ہوں اور جب تک تین متواتر طور پر منتخب شدہ کو نسلوں میں وہ اس تبدیلی کے حق میں ووٹ نہ دیں اسے پاس نہ سمجھا جائے۔اکثر و بیشتر یہ ان مطالبات کا خلاصہ تھا جو عموماً شفیع لیگ کی طرف سے پیش کئے گئے۔اس کے مقابل کلکتہ لیگ کے مطالبات تھے جس کے بانی صدر اور روح رواں جناب محمد علی جناح تھا۔مگر اول تو انہیں خود اقرار تھا۔کہ اس زمانے میں مسلمانوں کی اکثریت ان کی تائید میں نہیں تھی۔دوسرے شفیع لیگ سے ان کا اصولی اختلاف اس مرحلے پر بنیادی حیثیت سے دو ایک امور پر تھا۔جن کی وضاحت حضور نے فرمائی اور اس کے بعد مسلمانوں کا ایک ایک مطالبہ بیان کر کے نہرو رپورٹ کی روشنی میں ثابت کیا کہ اس نے مسلم مطالبات کو پورا کرنا تو رہا ایک طرف ان کے موجودہ حاصل شدہ حقوق بھی غصب کرنے کی کوشش کی ہے اتحادی طریق حکومت (Federal System) کی بجائے اس نے ایک قسم کی وحدانی طرز حکومت (Unitary System کی تجویز کی۔اقلیتوں کی نسبت اس نے فیصلہ دیا کہ انہیں کسی جگہ زائد حق نہ دیا جائے۔جداگانہ انتخاب کا مطالبہ اس نے پورا کرنے سے انکار کر دیا۔اگر چہ صوبہ سرحد کے لئے نیابتی حکومت قبول کرلی۔مگر بلوچستان کو مشتبہ چھوڑ دیا اور سندھ کو الگ صوبہ بنانے کے لئے غیر معقولی شرطیں لگا دیں۔زبان کا معاملہ نظر انداز کر دیا۔مذہبی اور اقتصادی دست اندازی سے روکنے کے مطالبہ کی اہمیت و وسعت لفظوں کے ہیر پھیر میں دبا دی گئی۔اسی طرح جہاں تک اقلیتوں کی حفاظت کی دفعات کا ایسے رنگ میں قانون اساسی میں شامل کرنے کا تعلق تھا۔کہ ان کا بدلنا آسان کام نہ ہو۔اسے بھی نہر کمیٹی نے نظر انداز کر دیا۔مسلمانوں کو بروقت انتباہ مسلمانوں کے مطالبات اور نہرو رپورٹ پر تفصیلی نظر ڈالتے ہوئے آپ نے پہلے مسلمانوں کو خاص حفاظت کی ضرورت کے سات اہم وجوہ بیان فرمائے۔اور پھر مسلمانوں کے ہر مطالبہ کی معقولیت روز روشن کی طرح ثابت کر دکھائی اور مسلمانوں کو بروقت انتباہ کیا کہ وہ یہ خیال چھوڑ دیں کہ اب جو کچھ بھی فیصلہ ہو جائے بعد میں اگر اس میں نقص معلوم ہو گا تو اسے بدل دیا جائے گا کیونکہ معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے آج انہیں اپنے مطالبات کا منوانا زیادہ آسان ہے لیکن سوراج کے ملنے کے بعد ان کا منوانا بالکل ناممکن ہو گا اس وقت مرکزی حکومت پر ہندو اکثریت چھائی ہوئی ہو گی اس لئے مسلمان اسمبلیوں میں بھی حق نہ حاصل کر سکیں گے۔پھر مسلمان اقلیت کے قوت و طاقت سے اپنے حقوق بزور منوانے کا امکان نہیں ہے اور نہ بیرونی طاقتوں اور ملکوں پر انحصار کرنا صحیح ہو سکتا ہے لہذا ملک میں اپنے مستقبل کو محفوظ کرنے کی