تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 63 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 63

59 خلافت عثمانیہ کا پندرھواں فصل چهارم حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کادرس القرآن قرآنی علوم و معارف اور اسرار و ۸/ اگست تا ۸ / ستمبر ۱۹۲۸ء کے مبارک ایام نکات کی اشاعت کے لحاظ سے ۱۸ اگست ۱۹۲۸ء تا ۸ / ستمبر ۱۹۲۸ء کے مبارک ایام ہمیشہ یاد گار رہیں گے کیونکہ ان میں سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ میں سورہ یونس سے سورہ کہف تک پانچ پاروں کا روح پرور درس دیا۔HD حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو نا سازی طبع کے باوجود بہت محنت حضور کی غیر معمولی محنت و کاوش و مشقت کرنا پڑی۔درس القرآن کو علمی اور تحقیقی پہلو سے مکمل کرنے کے لئے حضور گرمی کے تکلیف دہ موسم میں رات کے بارہ بارہ بجے تک کتب کا مطالعہ کر کے نوٹ تیار کرنے میں مصروف رہتے اور پھر دن میں سلسلہ کے اہم اور ضروری معاملات کی سر انجام دہی کے علاوہ روزانہ چار پانچ گھنٹہ تک سینکڑوں کے اجتماع میں بلند آواز سے درس دیتے۔جس قدروقت میسر آسکا اسے کلام اللہ پر غور کرنے اور اس کے حقائق و معارف بیان کرنے میں صرف فرماتے۔حضور کے اس عظیم مجاہدہ کا ذکر کرنے کے بعد جو آپ نے محض اشاعت علوم قرآن کی خاطر اختیار فرمایا۔اب ہم درس القرآن کے دو سرے اہم کو الف بیان کرتے ہیں۔یہ درس چونکہ ایک خاص اہمیت رکھتا تھا۔اس لئے احباب دوستوں کا قادیان میں اجتماع جماعت کو متعدد بار تحریک کی گئی EC کہ اس موقعہ سے نہ صرف خود پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہیئے بلکہ دوسرے اہل علم مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں کو بھی لانے کی کوشش کریں۔چنانچہ ۷ / اگست ۱۹۲۸ء تک بہت سے دوست مرکز احمدیت قادیان میں جمع ہو گئے۔درس کے پہلے ہفتہ میں بیرونی احباب کی تعداد قریباً ڈیڑھ سو تک پہنچ گئی۔ان احباب کی اکثریت گرایجوایٹ وکلاء کالجوں کے طلباء اور حکومت کے معزز عہدیداروں اور رؤساء پر مشتمل تھی۔اور ان کے قیام کا انتظام مدرسہ احمدیہ میں کیا گیا تھا۔