تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 62
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 58 خلافت همانیه کا پندر میرے خلاف اتہامات لگائے گئے ہیں اور مجھ پر حملے کئے گئے ہیں آج میری زندگی میں شاید معاصرت کی وجہ سے لوگ اس فرق کو اس قدر محسوس نہ کریں۔اور شاید گواہی دینا غیر ضروری سمجھیں یا اس کے بیان کرنے سے ہچکچائیں لیکن دنیا کا کوئی شخص بھی خالد اور ہمیشہ زندہ رہنے والا نہیں۔نہ معلوم چند دن کو نہ معلوم چند ماہ کو نہ معلوم چند سال کو جب میں اس دنیا سے رخصت ہو جاؤں گا۔جب لوگ میرے کاموں کی نسبت ٹھنڈے دل سے غور کر سکیں گے۔جب سخت سے سخت دل انسان بھی جو اپنے دل میں شرافت کی گرمی محسوس کرتا ہو گا۔ماضی پر نگاہ ڈالے گا۔جب وہ زندگی کی ناپائیداری کو دیکھے گا اور اس کا دل ایک نیک اور پاک افسردگی کی کیفیت سے لبریز ہو جائے گا اس وقت وہ یقینا محسوس کرے گا کہ مجھ پر ظلم پر ظلم کیا گیا اور میں نے صبر سے کام لیا۔حملہ پر حملہ کیا گیا لیکن میں نے شرافت کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔اور اگر اپنی زندگی میں مجھے اس شہادت کے سنے کا موقعہ میسر نہ آیا تو میرے مرنے کے بعد بھی یہ گواہی میرے لئے کم لذیذ نہ ہوگی یہ بہترین بدلہ ہو گا جو آنے والا زمانہ اور جو آنے والی نسلیں میری طرف سے ان لوگوں کو دیں گی اور ایک قابل قدر انعام ہو گا۔جو اس صورت میں مجھے ملے گاپس میں بجائے اس کے کہ ان لوگوں کے حملہ کا جواب سختی سے دوں بجائے اس کے کہ گالی کے بدلہ میں گالی دوں تمام ان شریف الطبع لوگوں کی شرافت اور انسانیت سے اپیل کرتا ہوں جو اس جنگ سے آگاہ ہیں کہ وہ اس اختلاف کے گواہ رہیں وہ اس فرق کو مد نظر رکھیں اور اگر سب دنیا بھی میری دشمن ہو جائے تو بھی ان لوگوں کی نیک ظنی جو خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں لیکن ایک غیر متعصب دل ان کے سینہ میں ہو ان بہترین انعاموں میں ہو گا۔جن کی کوئی شخص امید کر سکتا ہے - 11 مسلمان ان دنوں ہندوؤں کے فرقہ وارانہ تعصب کا ہر جگہ شکار ہو رہے ہائی کورٹ کا انتظام تھے۔حتی کہ پنجاب ہائی کورٹ کی انتظامیہ میں بھی ان کے حقوق پامال ہونے لگے۔جس پر ابتداء اخبار "مسلم آؤٹ لک" نے پھر اخبار "زمیندار" نے احتجاج کیا۔اور گوان اخبارات نے جلسہ ہائے سیرت النبی کے سلسلہ میں عدم تعاون کا مظاہرہ کیا تھا مگر چونکہ یہ معاملہ مسلمانوں کے تحفظ حقوق کا تھا۔اس لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس کے حق میں آواز بلند کی۔اور لکھا: ”ہم مسلمانوں کی جس طرح مناسب سمجھیں گے حفاظت کریں گے اور انشاء اللہ کسی کی مخالفت کے خیال سے اس میں کو تاہی نہیں کریں گے اور نہ یہ دیکھیں گے کہ ایک مفید تحریک کرنے والا ہمارا دشمن ہے بلکہ اگر کوئی مفید تحریک ہوگی تو خواہ وہ "زمیندار" ہی کی طرف سے کیوں نہ ہو۔جس نے ہماری مخالفت کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔تب بھی ہم اس کی تائید سے اور پر زور تائید سے انشاء اللہ دریغ نہیں کریں گے اور اس بات سے نہیں شرمائیں گے کہ اس تحریک کا سرا "زمیندار" کے سر بندھتا ہے۔DA