تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 58
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 54 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال جہاد بالقرآن کی اہم تحریک سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثنی ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز نے جولائی ۱۹۲۸ء کے پہلے ہفتہ میں مسلمانان عالم کو اس طرف توجہ دلائی کہ ان کی ترقی و سربلندی کا اصل راز قرآن مجید کے سمجھنے اور اس پر کار بند ہونے میں مضمر ہے چنانچہ حضور نے ۶/ جولائی ۱۹۲۸ء کو خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا۔ہر مسلمان کو چاہیے کہ قرآن کریم کو پڑھے۔اگر عربی نہ جانتا ہو تو اردو ترجمہ اور تفسیر ساتھ پڑھے عربی جاننے والوں پر قرآن کے بڑے بڑے مطالب کھلتے ہیں مگر یہ مشہور بات ہے کہ جو ساری چیز نہ حاصل کر سکے اسے تھوڑی نہیں چھوڑ دینی چاہیئے۔کیا ایک شخص جو جنگل میں بھو کا پڑا ہوا سے ایک روٹی ملے تو اسے اس لئے چھوڑ دینی چاہیئے کہ اس سے اس کی ساری بھوک دور نہ ہوگی۔پس جتنا کوئی پڑھ سکتا ہو پڑھ لے۔اور اگر خود نہ پڑھ سکتا ہو تو محلہ میں جو قرآن جانتا ہو اس سے پڑھ لینا چاہیئے۔جب ایک شخص بار بار قرآن پڑھے گا اور اس پر غور کرے گا تو اس میں قرآن کریم کے سمجھنے کا ملکہ پیدا ہو جائے گا۔پس مسلمانوں کی ترقی کار از قرآن کریم کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں ہے جب تک مسلمان اس کے سمجھنے کی کوشش نہ کریں گے کامیاب نہ ہوں گے۔کہا جاتا ہے دوسری قومیں جو قرآن کو نہیں مانتیں وہ ترقی کر رہی ہیں پھر مسلمان کیوں ترقی نہیں کر سکتے۔بے شک عیسائی اور ہندو اور دوسری قومیں ترقی کر سکتی ہیں لیکن مسلمان قرآن کو چھوڑ کر ہر گز نہیں کرسکتے۔اگر کوئی اس بات پر ذرا بھی غور کرے تو اسے اس کی وجہ معلوم ہو سکتی ہے اگر یہ صحیح ہے کہ قرآن کریم خد اتعالیٰ کی کتاب ہے اور اگر یہ صحیح ہے کہ ہمیشہ دنیا کو ہدایت دینے کے لئے قائم رہے گی تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اگر قرآن کو خدا کی کتاب ماننے والے بھی اس کو چھوڑ کر ترقی کر سکیں تو پھر کوئی قرآن کو نہ مانے گا پس قرآن کی طرف مسلمانوں کو توجہ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی ترقی کا انحصار قرآن کریم ہو"۔چندہ خاص کی دوسری تحریک جماعت احمد یہ کے لئے یہ زمانہ مالی لحاظ سے بڑی تنگی کا زمانہ تھا۔اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو بار بار مالی مطالبات پر زور دینا پڑتا تھا چنانچہ ۱۹۲۷ء میں حضور نے چندہ خاص کی تحریک فرمائی جس پر مخلصین جماعت کو خدا تعالیٰ نے ایسی توفیق بخشی کہ نہ صرف پچھلا بہت سا قرضہ اتر گیا بلکہ اگلے سال کا بجٹ پورا کرنے کے لئے بھی خاصی رقم جمع ہو گئی لیکن سلسلہ احمدیہ کا خزانہ چونکہ ابھی خطرہ سے پوری طرح باہر نہیں تھا۔اور جماعت کے لئے ضروری تھا کہ جب تک یہ نازک صورت حال ختم نہ ہو جائے معمولی چندوں کے علاوہ چندہ خاص بھی دیا کریں تا معمولی چندوں کی کمی اس سے پوری ہو جائے۔اور سلسلہ کے کاموں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔