تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 755
تاریخ احمدیت۔جلده 719 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ او ۴۵ اس اداریہ کا خلاصہ یہ تھا کہ جس طرح برطانوی ہند کے رہنے والے آزادی کا حق رکھتے ہیں۔ریاستی باشندوں کو بھی وہی حق حاصل ہونا چاہئے۔۴۶۔مطالبہ پاکستان کی تائید میں۔۴۷۔بتایا ہے کہ ریاست کشمیر کی نسبت مسلمان یہ تخیل قبول نہیں کر سکتے کہ یہ ہند و ریاست ہے۔-۴۸ اخبار اصلاح ۱۳ مارچ ۱۹۴۱ء صفحہ اکالم۔۹ اخبار اصلاح ۱۵ / فروری ۱۹۴۵ء صفحہ ا کالم ۵۰ اخبار اصلاح سرینگر ۲ / اکتوبر ۱۹۳۴ء صفحه اکالم ۲- 2 ملاحظہ ہو تاریخ اقوام کشمیر جلد دوم صفحہ ۱۸۵ ۵۲- تاریخ اقوام کشمیر جلد ۲ صفحه ۲۸۵ ۵۴ ۵۳- مسلمانان ریاست جموں و کشمیر کے نام میرا ساتواں خط ( از سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایده الله تعالی صفحه ۳- ریاست کے وزراء نے یقین دلایا کہ اگر شیخ محمد عبد اللہ صاحب سول نافرمانی کی تحریک واپس لے لیں تو سیاسی قیدی آزاد کر دیے جائیں گے۔مگر اس وعدہ کے باوجود ریاست نے ایفاء عہد نہ کیا تو اخبار اصلاح نے ۲۳/ اگست ۱۹۳۴ء کو حکومت سے دردمندانہ گزارش کی کہ سول نافرمانی کے قیدی رہا کر دیئے جائیں۔(اصلاح ۲۳/ اگست ۱۹۳۴ء صفحہ ۳) ۵۵ اخبار اصلاح ۷ ستمبر ۱۹۳۴ء صفحہ سے کالم او صفحہ ۸ کالم ۳۔۵۶ ۱۹۳۷ء میں میونسپل کمیٹی کے انتخابات ہوئے تو جماعت احمدیہ کشمیر نے مسلم کانفرنس کے نمائندوں کے حق میں ووٹ ڈالے اور خدا کے فضل سے اس بار بھی اس کے سب نمائندے منتخب ہو گئے۔جن کے نام یہ ہیں احسن اللہ صاحب مینجر آرمی ایجنسی۔غلام محمد صاحب ڈار مولوی محمد سعید صاحب مسعودی ایڈیٹر ہم رد- میر غلام حسین صاحب گیلانی - خواجہ عبد الاحد صاحب برزه- میر مقبول شاہ صاحب سجاده نشین قادریه - غلام رسول صاحب وڈیرا سید غلام مرتضی صاحب جلالی (اخبار اصلاح سرینگر / جنوری - ۱۹۳۷ء صفحہ ۲ کالم ۳۰۲۔ایضا ۱۳ / جنوری ۱۹۳۷ء صفحه ۲) ۵۷- یعنی دو سو رو پید-مناقل ۵۸- اصلاح ۱۹/ مئی ۱۹۴۶ء صفحہ ہے۔۵۹ محترم چوہدری صاحب ۱۵ / اپریل ۱۹۰۳ء کو میانوال ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے آپ کے والد ماجد منشی احمد بخش صاحب ملازمت کے سلسلہ میں خانقاہ ڈوگراں (ضلع شیخو پورہ) میں چلے آئے تھے۔اسی قصبہ میں مولوی صاحب نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔سالانہ جلسہ ۱۹۱۷ ء پر پہلی بار اپنے والدین کے ساتھ قادیان تشریف لائے اور تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخلہ لیا۔۱۹۲۷ ء جے دی کا امتحان پاس کر کے مدرسہ احمدیہ قادیان میں انگلش نیچر مقرر کئے گئے اور تعلیم کے ساتھ سکاؤٹنگ کا کام بھی آپ کے سپرد ہوا۔سالانہ ٹورنامنٹ کے موقعہ پر سکاؤٹ جو کھیلیں دکھاتے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ان کا ملاحظہ کرتے اور اظہار پسندیدگی فرماتے۔مدرسہ احمدیہ کے سکاوٹوں نے آپ ہی کی نگرانی میں سالانہ جلسہ ۱۹۲۷ء کے پنڈال کی توسیع میں حصہ لیا۔جس پر حضور نے خوشنودی کا اظہار فرمایا۔۱۹۳۲ء سے ۱۹۳۴ء تک دہلی میں بطور ٹیچر کام کرتے رہے۔۱۹۳۵ء میں ضلع سہارن پور میں محکمہ سکاؤٹنگ کے افسر رہے اپریل ۱۹۳۶ میں مدیر اصلاح مقرر کئے گئے ۱۹۴۷ء تک کامیابی سے یہ خدمت انجام دینے نیز الفضل کی مینجری کے فرائض ادا کرنے کے بعد قائد آباد سے متصل علاقہ تھل کے چک ۸ ایم پی ( تحصیل خوشاب ضلع سرگودها مستقل بود و باش اختیار کرلی۔بالآخر ۸ / جولائی ۱۹۶۴ء کو آپ کا انتقال ہوا۔(اصلاح ۲۹/ اگست ۱۹۴۰ء د الفضل ۱۸/ جولائی ۱۹۶۴ء) الفضل ۱۸/ جولائی ۱۹۶۴ء صفحہ ۵ کالم ۳ الله بعض دوروں میں خواجہ غلام نبی صاحب گلکار بھی مسفر رہے ( اخبار اصلاح سرینگر ۱۵ جون ۱۹۳۷ء صفحه ۲ کالم ۲)۔اخبار اصلاح ۲۷/ جولائی ۱۹۴۲ء صفحہ ۲۔الفضل ۱۸/ جولائی ۱۹۶۴ء صفحہ ۵ کالم ۳ 1