تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 752 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 752

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 716 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ بلکہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے خادم تھے اور اسلام کی عزت ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالی نے انہیں مبعوث کیا تھا پس جس ملک میں دو مسیحوں کا دخل ہے وہ ملک بہر حال مسلمانوں کا ہے اور مسلمانوں کو ہی ملنا چاہئے اس لئے۔۔ہمیں ہر وقت خدا تعالے سے دعائیں کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے مستقبل کے متعلق خود فیصلہ کرنے کی توفیق بخشے اور جس طرح کہتے ہیں جہاں کی مٹی تھی وہیں آگی"۔وہ جہاں کی مٹی ہیں وہیں آلگیں اور ان کے رستہ میں کوئی منصوبہ اور کوئی سازش روک نہ بے"۔سیدنا المصلح الموعود کا عہد اور دعائیہ کلمات چنانچہ حضور کے ارشاد مبارک کی تھیل میں پوری جماعت آج تک کشمیر کی آزادی کے لئے دعاؤں میں برابر مصروف ہے۔اور سید نا المصلح الموعود کا رجود مقدس تو ہمیشہ فتح کشمیر اور واپسی قادیان کے لئے مجسم گریہ و زاری رہا ہے۔جس کی ایک جھلک اس عہد صمیم اور ان دعائیہ کلمات سے بخوبی نمایاں ہوتی ہے۔جو حضور انور نے صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے نام اپنے ۶/ ستمبر ۱۹۶۵ء کے پیغام میں لکھوائے۔چنانچہ حضور نے فرمایا۔میں اپنی طرف سے اور جماعت احمدیہ کی طرف سے آپ کو دل و جان کے ساتھ مکمل تعاون اور مدد کا یقین دلاتا ہوں۔اس نازک موقعہ پر ہم ہر مطلوبہ قربانی بجالانے کا عہد کرتے ہیں۔میں اللہ تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے بے پایاں فضل کے نتیجہ میں اپنی خاص راہنمائی سے آپ کو نوازے اور ہم سب کو اپنے وطن عزیز کا دفاع کرنے کی طاقت و ہمت عطا فرمائے یہاں تک کہ اس کے فضل سے کلی طور پر فتح یاب ہوں اور ہمارے کشمیری بھائی آزادی سے ہمکنار ہوں۔آمین " -